قبلہ ایک، کتاب ایک، خدا ایک، رسول ایک

مکرمی!ایک محقق کا قول ہے” کسی عیسائی کومسلمانوں کو باجماعت نماز ادا کرتے نہیں دیکھناچاہئے۔ تاکہ وہ اتحاد و اسلامی مساوات سے متاثر نہ ہو۔ اسلامی فلاسفی کا کوئی بھی اصول دیکھ لیں آپ کو اس میں اتحاد جھلکتا ہوا نظرآئے گا۔ہمارا کوئی تہوار ہو اسلامی عبادت ہو۔ ہرایک میں اتحاد نظر آتا ہے اور حج تو اس لئے دنیا بھر میں مثال سمجھا جاتا ہے کہ کیسے ہررنگ نسل کے لوگ ایک اللہ کے سامنے جھکتے ہیں لیکن اب ہماری فرقہ وارانہ عصبیت نے اسے پارہ پارہ کردیا ہے اور یہی چیز ہماری قوم کے لئے زہر قاتل بن گئی ہے۔اب ہماری کوئی سیاسی پارٹی کے رکن کسی اسلامی جماعت سے ملتے ہیں تو یہ ٹی وی میڈیا ایشو بن جاتا ہے آخر کیوں ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے نہیں مل سکتا۔ اس بات کو پہچانو کہ مسلمان جغرافیائی حد بندیوں سے آزاد ہے۔ تمام دنیا اس کے لئے مسجد ہے تو پھر یہ ملک جو قائم بھی اسلام کے نام پر ہوا ہے یہ بات باعث ندامت محسوس ہوتی ہے کہ ہم بھوک غربت افلاس کی بجائے ان باتوں میں اچھے رہیں۔خدارا اس فرقہ واریت کو چھوڑ کراسلام کی سر بلندی اور تعمیر وطن کی جدوجہد کے لئے مثبت سوچ کو اپنائیں۔ریحانہ سعیدہ لاہور