دشمن کی پہچان

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

 مکرمی! بنک کی 30 سالہ سروس کے دوران بے شمار کرداروں کا مشاہدہ کیا۔ تجربات ہوئے جو میں گاہے بگاہے  آپ کے اخبار  نوائے وقت کی وساطت سے شیر کرتا رہتا ہوں ‘ آپ کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ آپ اسے قابل اشاعت قرار دیتے ہیں۔  میرے لئے یہ بہت  بڑا اعزاز  ہے۔ بنک کے ایک دوست  میں عجب قسم کی فوجی جسے آپ بے حیائی بھی کہہ سکتے  ہیں تھی‘ وہ جب چاہتا  دو دوستوں دو بھائیوں  میں لڑائی  کرا دیتا تھا۔  اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ تھی کہ دونوں فریق  اس شدنی قسم کے آدمی کو سلامیں کرتے تھے‘ ان کو سمجھ نہیں لگتی تھی۔  اس کے مارنے اور مرنے والا دونوں  عزت کرتے تھے اس سے بڑی خوشی سے سلام دعا  لیتے لڑائی کی جڑ یہ شخص ہے اس کا وہ گمان بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کچھ اس قسم کا حال پاکستانی حکمرانوںکا ہے کراجی ایرپورٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔  تمام اسلحہ جو دہشت گردوں نے استعمال کیا وہ ہندوستان  کا تھا اور اس کے بعد پاکستانی حکمرانوں نے  ہندوستان کے حکمرانوں کو تحفے تحائف بھیجے  یقیناً دہشت گردوں نے بھی ہندوستان کا شکریہ ادا کیا ہو گا۔ یہ بے حیا‘ دوست نما دشمن کی کھلی پہچان  ہے۔ یہ ملک ہندوستان اس کردار  کا مالک  ہے‘ اسے اسی حیثیت میں  ملنا چاہئے۔ ان کے ساتھ امن کی آشا ایک ہی دفعہ ہو گی۔                          (ماجد علی شاہ 302 اقبال ایونیو جوہر ٹائون لاہور  )