گیس و بجلی غائب‘ لیکن بل ہزاروں میں

مکرمی! ایک طرف حکومت کی طرف سے تشہیر کا سلسلہ زوروں پر ہے کہ گیس اور بجلی کم سے کم استعمال کرکے اضافی بل سے بچیں۔ مگر کمال ہے کہ گھروں میں نہ بجلی ہے اور گیس‘ بچے بڑے سب بغیر ناشتہ کئے‘ سکول و دفتر جانے پر مجبور ہیں‘ اسکے باوجود حکومت کی طرف سے گیس و بجلی کی بچت کی ہدایت کی جاتی ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ پچھلے دو ماہ سے مسلسل جاری ہے‘ سارا دن میں مشکل سے آدھا گھنٹہ گیس آتی ہے ‘جبکہ ماہ دسمبر کے گیس کا بل چودہ سے اٹھارہ سو تک موصول ہوا ہے‘ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جو چیز انہوں نے استعمال ہی نہیں کی‘ تو اسکا بل کیوں ادا کیا جائے اور بھی ہزاروں میں۔ حکومت سے گزارش ہے کہ وہ عوام کے صبر کا مزیدامتحان نہ لے اور انہیں سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ کرے‘ خدا کا واسطہ عوام کو جتنی گیس و بجلی استعمال کرنے کیلئے دی جاتی ہے‘ اسی حساب سے بل بھی بھیجا جائے۔اہل علاقہ پیر غازی روڈ بابااعظم چوک اچھرہ لاہور