پاکستان یا.... لوٹ نگر

مکرمی! ہمارا پیارا ملک پاکستان بنیادی طور پر غذائی و اقتصادی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خودکفالت کی منزلوں کو چھوتا ہے لیکن ہمارے سربراہوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے آج ہماری اقتصادی آزادی و خودانحصاری کو عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں اور غیر ملکی مداخلت کے باعث شدید ٹھیس پہنچ چکی ہے یہاں تک کہ ملک میں چینی، بجلی اور پٹرول کے نرخوں میں اضافے کے خلاف عدالتی کارروائی بھی ناکام ہو چکی ہے۔ مقامی صنعت کو گزشتہ عشرہ اور حالیہ دو سال میں نامناسب پالیسیوں کے نفاذ نے تباہ کر دیا ہے اور تقریباً تمام کاروبار ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے۔ عوامی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ انفرادی طور پر بھی قومی سطح پر روشناس ہونے والی شخصیات بھی زوال کا شکار نظر آتی ہیں جس شخصیت سے پردہ اٹھتا ہے نیچے سے قرضہ معافی، پلاٹوں کی نوازشیں، بھاری فیسیں یا پھر ایل پی جی کی عنائتیں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کو لوٹ نگر بنانے میں سب کا حصہ برابر کا نظر آ رہا ہے بہرحال بہتری کی توقع بھی کی جا سکتی ہے اگر تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بلاتخصیص قومی خزانہ لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے اور ان لوگوں سے حاصل شدہ دولت کو قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا جائے۔ بصورت دیگر لوٹ مار کرنے والے اور ان سے صرف نظر برتنے والوں کو تاریخ میں گزرے واقعات یاد رکھنے چاہئیں کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور وہ یقیناً حساب بھی لیا کرتا ہے۔(صفدر علی خان لاہور)