میرا پیغام

مکرمی! امت مسلمہ جس واحد کی طرح ہیں یعنی جب جسم کے حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم اس اذیت سے متاثر ہو کر بے قرار ہو جاتا ہے۔ اور جب تک اس حصے کی تکلیف دور نہ ہو اس وقت تک باقی جسم کو بھی چین نہیں آتا ہے آج جب ہمارے ملک کے شمالی علاقہ جات وسیع پیمانے پر دہشت گردی کا شکار ہیں اور غیر مسلمانوں کا نشانہ بنے ہوتے ہیں تو باقی حصوں کے لوگ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے کیوں بیٹھے ہیں۔ اس سے تو صرف یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ کہ مسلمان آج خود کو جسد واحد تصور ہی نہیں کرتے ہیں چاہئے تو یہ تھا کہ پوری قوم اپنے مسلمان بھائیوں کا ہم درد بننے کے لئے اپنے تمام تر وسائل کو بروائے کار لاتے ہوئے زبردست مزاحمت کرتی اور ہر فرد اپنا حصہ ڈالنے کے لئے بے تاب ہو جاتا(دیا فاطمہ قصور)