لمحہ فکریہ

مکرمی! 4 جنوری 2010ءجب متحدہ عرب امارت اور مشرق وسطیٰ کے اہم ترین مرکز دوبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت کا افتتاح ہوا۔ برج الخلیفہ ہر اعتبار سے باکمال اور لاجواب انسانی تخلیق کا نمونہ ہے۔ برج حلیفہ کا رقبہ 20 ملین مربع میٹر‘ بلندی 828 میٹر‘ 160 منزلیں 49 فلورز صرف دفاتر کے لئے 1044 اپارٹمنٹس 9 شاندار ہوٹل 19 رہائشی ٹاور جن میں 30 ہزار مکانات جس کی لفٹ دنیا کی تیز ترین 65 کلومیٹر فی گھنٹہ اور اس کے احاطہ میں 6 ایکڑ رقبے پر باغات تعمیر کا آغاز 21 ستمبر 2004ء اور 1325 دن کے مختصر عرصے میں بلند و بالا عمارت آسمان سے باتیں کر رہی ہے برج الحلیفہ کی تعمیر نے سابقہ عمارتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ایک ہی وقت میں کئی ریکارڈ قائم کئے یہ بہت اچھی بات ہے مگر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ 8 ارب ڈالر کی خطیر رقم سے بنائی گئی یہ عمارت معاشی ترقی ہے یا معاشی عیاشیاللہ تعالیٰ نے عرب دنیا کو تیل جیسی دولت سے نوازا اس کے بعد سے ہی ان کا انداز فکر‘ بود و باش اور لائف سٹائل کے زاوئیے تبدیل ہو گئے مگر افسوس اس بے پناہ دولت کو خوبصورت محلات‘ بلند و بالا عمارتوں وسیع عریض سڑکوں‘ آرائش و زیبائش اور سامان تعیش کےلئے تو خرچ کیا گیا مگر اس دولت کا چوتھا حصہ اگر تعلیم کے میدان میں خرچ ہو جاتا تو آج مسلم دنیا یوں رسوا نہ ہوتی۔ (حماد اور قاسمی پنجاب کالج )