قوم کی بدحالی اور پاکستانی میڈیا

مکرمی! پاکستان میں اس وقت کم و بیش پچاس سے ساٹھ چینل اپنی نشریات نشر کر رہے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ چینل جن کو عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل ہے وہ دن رات صرف اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح حکومتوں کو گرانا ہے اور نئی حکومتوں کو کس طرح بنانا ہے، یہ اپنی طرف سے ہی اپنی ہی سوچ لے کر سارا سارا دن فضول قوم کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں کہ ابھی حکومت گئی اور ابھی حکومت بنی۔ آیا ہماری سوچ صرف اور صرف منفی پراپیگنڈا رہ گئی ہے کہ ہر آنےوالے میں کیڑے نکالے جائیں اور جس نے آنا ہو اُس کو فرشتہ سمجھا جائے۔ سابقہ حکومت نے اگر میڈیا کو آزادی دی تھی تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں تھاکہ میڈیا ایک بلیک میلنگ گروپ بن جائے۔ ہمارے ملک پاکستان کے بڑے ہی قابل احترام عہدوں پر جو شخصیات بیٹھی ہوئی ہیں ان کا نام یہ اس طرح لیتے ہیں جس طرح کہیں یہ کلاس چہارم کے سٹوڈنٹ ہیں۔ اگر میڈیا کو آزادی ملی تو ان کے لہجے میں بھی نرمی ہونی چاہئے اور شخصیت کا احترام بھی ہونا چاہئے اور ہمارا مذہب بھی ہر چھوٹے بڑے کے احترام کا درس دیتا ہے۔ (محمد اعجاز 0300-9486978 گلبرگ لاہور)