جواب چاہئے‘ احتساب چاہئے

مکرمی! آپ کے موقر روزنامہ کی اشاعت 14-01-10(مراسلات) میں ڈائریکٹر اقبال اکادمی سہیل عمر نے اپنی کرپشن کے خلاف ایوان اقبال کے سامنے راقم کے تاحال اور مسلسل پرامن احتجاج سے گھبرا کر اب باقی امور کے علاوہ اقبالیات کی تاریخ کے اولین فورم برائے خواتین ”خواتین بزم اقبال“ پر کیچڑ اچھالنے کے اپنے مذموم منصوبے کی دھمکی دی ہے اس فورم کا دفاع اس کی چیئرپرسن‘ دیگر عہدیداران اور معزز ممبران خود انشاءاللہ بخوبی کر لیں گی لیکن اقبال اکادمی کے ڈائریکٹر صنف نازک کو خواہ مخواہ گھسیٹ لانے کے حوالے سے اب راقم کے لئے بھی لازمی ہو گیا ہے کہ وہ اس حق کا استعمال ضرور کرے کہ مذکورہ مراسلہ میں ایوان اقبال گیلریز کی تصاویر کی سلامتی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے سہیل عمر اور ان کے اس سفید جھوٹ کو سچ قرار دینے والے محترم ڈاکٹر جاوید اقبال (خط بنام وزیر اعلیٰ پنجاب) سے‘ ان سوال کی جرÉت کریں کہ وہ خاتون کون تھی؟ اور اس کو لگ بھگ نصف لاکھ روپیہ کس خدمت کے معاوضہ کے طور پر دیا گیا تھا؟ جس کی زیر نگرانی ایوان اقبال گیلریز کی تصاویر کو نقصان پہنچایا گیا۔ تصاویر کے اس نقصان کی تصدیق ماہرین کی ایک کمیٹی سے کروانے کی درخواست کی جاتی ہے۔ (اسلم کمال .... لائف ٹائم اچیومنٹ ایواڈ از اقبال اکادمی‘ پرائیڈ آف پرفارمنس از حکومت پاکستان) 0300-4649400