امریکہ کا علاج

مکرمی! ایک وقت تھا جب مسلمان دنیا میں غالب تھے عرب‘ شمالی افریقہ‘ سپین‘ ترکی‘ ایران‘ افغانستان‘ ہندوستان پر ان کی حکومت تھی‘ عیسائی صرف یورپ کے برفانی علاقے تک محدود تھے۔ پھر وقت بدلا علمی ترقی ہوئی‘ صنعتی انقلاب آیا‘ بڑے بڑے جہاز بنے۔ امریکہ اور آسٹریلیا دریافت ہوئے یورپ کے لوگ بڑے پیمانے پر چیزیں بنا کر نکلے لیکن وہ بڑے ظالم اور وحشی تھے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے باشندوں کا قتل عام کیا۔ ان کی عورتوں کو بے آبرو کیا ان کے پاس تیر کمان کے علاوہ کوئی ہتھیار نہ تھے۔ ہندوستان میں تجارت کے لئے ایک انگریز کمپنی آئی اورنگ زیب کی وفات کے بعد ان کی کمپنی نے روپے کے زور پر اور غدار پیدا کر کے ریاستوں کو فتح کرنا شروع کیا۔ پہلی لڑائی پلاسی میں وزیراعظم کو غدار بنا کر لڑی گئی۔ کوئی‘ فوج انگلستان سے نہیں آئی یہیں سے سپاہی بھرتی کئے گئے۔ دوسرے پیشہ ور ہی طرح سپاہی بھی جیسا حکم ہو عمل کرتے ہیں خواہ اپنی قوم ہی ہو۔ مغل شہزادے 1857ء تک بادشاہ بنے رہے لیکن ریاستیں منتشر ہو گئیں اور ایک ایک کر کے انگریز کی مطیع ہو گئیں۔ انگریزی وائسرائے اور مختصر فوج بعد میں آئے انگریز نے اچھی حکومت کی امن قائم کیا سکول اور ہسپتال بنائے‘ سڑکیں اور ریلوے بنائی‘ عوام کے نمائندوں کو حکومت میں شریک کیا۔ بالآخر 1939-45 کی جنگ کے بعد جب امریکہ سپر پاور کے طور پر ظاہر ہوا۔ انگریز چپکے سے چلا گیا۔
امریکہ نے کسی ملک پر حکومت قائم نہیں کی بلکہ ان کو آزاد چھوڑ دیا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ مقامی حکمرانوں کو قابو کرے اور ملک کو برباد کرے۔ حکمرانوں کو قابو میں رکھنے کا طریقہ تھا کہ ایک آدمی حاکم کے پاس جاتا اور کہتا کہ اگر تم ہمارے کہنے پر چلو تو اتنے کروڑ ڈالر تمہارے ہیں۔ نہ چلو تو یہ گولی تمہارے لئے وہ بیچارہ ڈر کر سب کچھ مان لیتا۔
عیسائیوں کا نیا نعرہ یہ ہے کہ اسلام ہمارا دشمن ہے کیونکہ وہ پھیلنے والا مذہب ہے۔ سب امریکہ مسلمانوں کو ہٹانے کے لئے نکلا ہے۔ وہ ملک کو فتح نہیں کرتا بلکہ بمباری ہے اس کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس نے جنوبی امریکہ کے ملکوں‘ ریٹ نام اور شمالی کوریا کو تباہ کیا پھر وہ عراق پر حملہ آور ہوا اور اسے تباہ کیا اور اس کے صدر کو پھانسی دے دی کہ اس نے لوگوں کو قتل کیا ہے۔ اس پر الزام یہ تھا کہ اس کے پاس ہتھیار ہیں حالانکہ ہتھیار رکھنا کوئی جرم نہیں۔ یہ ہر ملک کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ خاموش دیکھتے رہے۔ایران پر حملے کا ارادہ کیا تو اس کے صدر نے کہا کہ ایسا ہوا تو ہمارے پاس ایسے آدمی ہیں جو امریکیوں کو جہاں بھی وہ ہونگے قتل کر دیں گے۔ امریکہ ڈر گیا اور باز آ گیا۔
(ڈاکٹر یعقوب خان لاہور کینٹ)