ایڈیٹر کی ڈاک ۔۔۔۔۔ مراسلات

’’مسائل کا حل و خلوص نیت ‘‘
مکرمی ایک کالم بعنوان ’’خط ‘‘ جو مور خہ 22.12.2010کو نوائے وقت میں چھپا حقیقت کے بڑا قریب ہے لیکن کثیرا لجہتی تنا ظر دینے سے قاصر ہے مسا ئل کا حل واقعی خلوص نیت کا مرہون منت ہوتاہے لیکن صرف خلوص نیت سے مسائل ہوجاتے تو کسی کے بھی اپنے گھر میں مسائل کے انبارنہ ہوتے ۔ مسا ئل حل کرنے کیلئے قائد پر بھروسہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ زرداری صاحب بہت جلد مسائل کا حل پیش کرسکتے ہیں اگر تمام سیاسی پارٹیاں پاور پالیٹکس کو بھول کر صدر صاحب پر بھروسہ کریں ان کی حکومت کی مضبوط کریں اور ملکی مسائل کو دور کرنے کیلئے ان کی بصیرت کی چھتری تلے جمع ہو جائیں۔ (عارفہ حسین لاہور)
وزیر اعلی شہباز شریف صاحب کے نام کھلا خط
مکرمی! پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے قومی ویمن کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے پر ایک پُر وقار عشائیہ دیا جو ویمن کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی اور اتنا بڑا اعزاز گولڈ میڈل جیتنے کے لیے بہت حوصلہ افزا اقدام ہے۔ اس پُر وقار تقریب میں کرکٹ سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اعجاز بٹ، رانا برادران، قومی کرکٹ ٹیم کے منیجر انتخاب عالم، سابق ویمن ونگ کرکٹ بورڈ شیریں جاوید اور موجودہ چیئر مین پرسن بشریٰ اعتزاز کے علاوہ بہت سی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ میں اور مجھ سمیت کرکٹ سے شفقت رکھنے والے کروڑوں لوگوں کے دل پر کیا گزری۔ جب شہباز شریف صاحب نے کرکٹ کی تباہی کے ذمہ داروں اعجاز بٹ رانا برادران اور انتخاب عالم خاص طور پر اعجاز بٹ کی شان میں قصیدے پڑھے۔ (طاہر شاہ،سابق فرسٹ کلاس کرکٹر سابق کپتان اسلامیہ کالج سول لائنز منیجر کوچ لاہور ریجن)
طالبان ایک حقیقت
مکرمی! نیٹو فوج کے سربراہ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اللہ طالبان سے راضی ہے اور ہم سے ناراض ہے۔ مقام حیرت ہے کہ جو بات کفر نے محسوس کر لی وہ مسلمان محسوس نہ کر سکے۔ یقینا حقائق سے منہ پھیرنے سے حقائق بدلتے نہیں، عقلمندی کا تقاضا ہے کہ حقائق بدلنے کی کوشش کرنے والے خود کو بدل لیں، یہی سب کے لیے بہتر ہے۔ طالبان ایک حقیقت ہیں جس طرح اپنوں اور غیروں نے ان سے منہ پھیر کر اس حقیقت کو فسانے میںبدلنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ آج وہ طاقتیں خود فسانہ بن چکی ہیں۔ ہم نے خود ساختہ دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ میں طالبان کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ کا ساتھ دیا لیکن آج امریکہ کے ہاتھوں خود کمزور ہو چکے ہیں اور طالبان کی کامیابی کے ڈنکے بج رہے ہیں۔ (واجد ظہور، لاہور)
واجبات
مکرمی! سائل کو محکمہ واپڈا فیسکو سے ریٹائر ہوئے تقریباً 10سال ہو چکے ہیں۔ سائل یکم جنوری 2000ء کو پنشن لے کر گھر چلا گیا تھا۔ سائل کی انکریمنٹ سروس بک میں نہ لگی ہیں اور نہ ہی سائل کے واجبات سائل کو ملے ہیں۔ سائل نے بار بار افسران بالا کو گزارش کی ہے لیکن تاحال سائل کی سنوائی نہ ہوئی ہے۔ استدعا ہے کہ میرے واجبات دلائے جائیں۔ (ولی محمد، ساکنXLSIIڈویژن جڑانوالہ ریجن فیصل آباد)
ALWAYS
مکرمی! آلویز کے کمرشل میں خواتین کی پوشیدہ چیزوں کو دکھایا جا رہا ہے۔ بچوں تک کو برائی کے بارے میں آگاہی دی جا رہی ہے پرزور اپیل ہے کہ اس حیا سوز کمرشل کو بند کیا جائے۔ (فرحت نورین)
سوئی گیس حکام توجہ فرمائیں
مکرمی ! میں نے 07-04-2010 کو سوئی گیس ڈیمانڈ نوٹس نمبر 4025794069 جمع کروایا تھا اب 10 مہینے گزر چکے ہیں۔ بندہ غریب آدمی ہے بازار سے مہنگے داموں LPG یا لکڑیاں نہیں خرید سکتا۔ برائے مہربانی گیس کنکشن جلدی دیا جائے۔ محمد بشیر ولد محمد صدیق عثمان سڑیٹ عمر فاروق پارک بند روڈ فون 03334207147۔
ایڈمنسٹریٹر ساہیوال بلدیہ کے نام
مکرمی! ساہیوال کی پرانی سبزی منڈی ساہیوال شہر کے وسط میں واقع ہے جہاں پر سبزی کے ساتھ ساتھ مچھلی، بیف اور مٹن کی دکانیں سستے داموں منیاری کی اشیاء کی متعدد دکانیں اور لاتعداد اشیائے خورد و نوش کی دکانیں موجود ہیں۔ سبزی منڈی میں جوں جوں عوام کا رش بڑھتا ہے۔ دکانداروں کو سامان ڈلیور کرنے کیلئے مختلف کمپنیز کی ڈلیوری وینز اور گدھا گاڑیاں سبزی منڈی میں داخل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ موٹر سائیکل سوار بھی موٹر سائیکلوں پر بھرے بازار میں دندناتے پھرتے ہیں جس کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو کافی مشکل پیش آتی ہے اور کافی قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے میری ایڈمنسٹریٹر بلدیہ ساہیوال سے گزارش ہے کہ سبزی منڈی کو داخل ہونے والے پانچ مرکزی راستوں کو جن میں دو ہائی سٹریٹ، دو پاکپتن بازار اور ایک دیپالپور بازار سے راستہ جاتا ہے دوپہر تین بجے تک ان راستوں سے سبزی منڈی میں داخل ہونے والی ڈلیوری وینز اور گدھا گاڑیوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔ سبزی منڈی کے باہر الگ سے موٹر سائیکل سٹینڈ بنایا جائے۔
(رانا ریاض احمد ساہیوال 0321-6907357)
پُوچھو نہ فرشتو! مجھے کیا ڈھونڈ رہا ہوں.......... زخموں بھرے مُفلس کی دوا ڈھونڈ رہا ہوں
کہتے ہیں وہ شے ملتی نہیں اپنے وطن میں۔۔۔۔۔۔ میں پھر بھی محبت کی فضا ڈھونڈ رہا ہوں
جس سے ملے کشمیر بھی اور مسجد اقصٰی ۔۔۔۔۔۔ اب ایسی کوئی اچھی دُعا ڈھونڈ رہا ہوں
اسلامی حکومت کرے قائم جو وطن میں۔۔۔۔۔۔ میں ایسا کوئی مست ادا ڈھونڈ رہا ہوں
مُمکن ہے قیامت ہی اب آ جائے وطن میں۔۔۔۔۔ ارشد میں لُٹیروں کی فنا ڈھونڈ رہا ہوں
عبدالرحمن ارشد مالیر کوٹلوی