وزیر اعظم کا خطاب

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی!وزیر اعظم پاکستان نے اتدار سنبھالنے کے 98روز بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بہت خوبصورت باتیں اور اچھے خواب دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے قوم سے ہی مزید قربانی مانگی ہے لیکن اسے سوائے حسین خوابوں اور تسلیوں کے ابھی تک کچھ نہیں ملا،اپنی پانچ سالہ آئینی مدت میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید سنائی ہے جبکہ عین خطاب کے دن بجلی کے فی یونٹ میںمزید اضافہ کردیا گیا ہے اس سے قبل اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 25 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوچکا تھا اب مزید مہنگائی بڑھنے جارہی ہے،موجودہ حکومت نے گردشی قرضوں کی مد میں بھی چار سو اسی ارب روپے ادا کردئےے ہیں لیکن لوڈ شیدنگ کی صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیںآسکی اس پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ ادائیگیاں کن کمپنیوںکو کی گئی ہیں۔ان98دنوں میںموجودہ حکومت نے کوئی ایسا انقلابی قدم نہیں اٹھایا جسے دیکھ کر کوئی امید کی جاسکے کہ آنے والے دن بہتری کی طرف جارہے ہیں ۔وہی دہشت گردی ہے،وہی امن و امان کے مسائل،کوئٹہ ،کراچی کی صورتحال جوں کی توں،لوڈشیڈنگ بھی پہلے جیسی،چوربازاری ،کرپشن کے الزامات غرضیکہ مجھے تو ابھی تک کوئی خاص فرق نظر نہیں آیا ۔جناب وزیر اعظم صاحب کروڑوں روپے کی بجلی اور گیس چوری ہورہی ہے آپ کی تقریر کے دوراں ہی لاہور سے پیکو روڈ پرایک فیکٹری میں ایک ارب روپے کے قریب کی چوری پکڑی گئی ہے ان پر ایک ایف آئی آر کاٹ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ریکوری کرنا بہت ضروری ہے۔جناب وزیر اعظم اگر خدانخواستہ آپ مصلحتوںکا شکار ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی بہتر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو فوری طور پر استعفیٰ دے دیں تاکہ یہ نہ ہوکہ آپ عوام کے لئے کچھ بھی نہ کر سکیں الٹا الزامات کی فہرست اپنے کھاتے میں ڈال لیں آپ کے پاس صرف دو راستے ہی ہیں یا توہمت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھائیں ورنہ استعفیٰ دے کر گھر واپس چلے جائیں ۔(چوہدری عبدالرزاق 101-Wہاوسنگ کالونی چیچہ وطنی)