سیلاب کی مدمیں کرپشن

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! انصاف کے بغیر کسی مہذب معاشرے کا تصور نہیں کیا جاسکتا، جب تک ملک میں انصاف بکتا رہے گا، ملک اندھیروں سے باہر نہیں نکل سکے گا۔ نوجوان نسل پاکستان کی امید ہے جس کی فلاح و بہبود وقت کی اہم ضرروت ہے۔یہ بات 12 جون 2010 کووزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے لاہور میں یوتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔عالمی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی ادارے ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ2012 میں واضح کیا تھا کہ اس وقت عالمی اقتصادیات میں کرپشن ایک لازمی جزو بن کر رہ گیا ہے۔ رپورٹ میں ڈنمارک، فن لینڈ اور نیوزی لینڈ کو دنیا میں سب سے کم بدعنوان ممالک کی فہرست میں بدستور سب سے اوپر اور افغانستان کے ساتھ ساتھ صومالیہ اور شمالی کوریا سب سے زیادہ کرپٹ ممالک میں شمار کیے گئے ہیں۔ مغربی صنعتی ممالک سوئٹزرلینڈ، سویڈن، کینیڈا اور آسٹریلیا ان دس ملکوں میں شامل ہیں جو کم بدعنوان ہیں۔ جبکہ انتہائی بدعنوان ممالک میں شامل پاکستان اور بنگلہ دیش سے بھارت کی صورتحال قدرے بہتر ہے۔سیالکوٹ سے نارووال جانے والی سٹر ک قلعہ احمدآباد(قلعہ سوبھاسنگھ ) کے مقام پر نالہ ڈیک پرواقع ایک پل جو 1985ءکے قریب تعمیر کیا گیا تھا، کئی سالوں سے نالہ ڈیک میں برساتی پانی آنے سے ٹریفک کیلئے بند ہو جاتاہے۔حالانکہ اس پل سے ٹریفک بند ہونے سے ایک لاکھوں سے زائد مزدور بے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں سرکاری وغیرسرکاری ملازمین بھی اپنی ڈیوٹی پر نہیں جا سکتے جبکہ اب تک ہزاروں ایکڑ رقبہ پر فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔ لوگ کا کہنا ہے کہ ہر سال صرف ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مساجد میں فلڈ وارننگ کے اعلانات کر دئیے جاتے ہیں۔ اوربااثر افرادکو لاکھوں روپے کا فائدہ پہچایا جاتاہے، ہرسال کی طرح درجنوں مکانات تباہ ہوچکے ہیں لیکن متاثرین کو حکومت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی امداد نہ مل سکی۔(غلام مرتضیٰ باجو ہ)