کفر اور ایمان کے درمیان مفاہمت کا خواب

مکرمی! ہم بھی عجیب لوگ ہیں، قرآن حکیم اور ارشادات رسول اکرم سے صرف نظر اور صریح اعراض کے مرتکب بھی ہوتے ہیں، مگر اس پر اکتفا نہیں کرتے اور اپنے من پسند تصورات کو پُر اثر نثر نگاری کے پردے میں رنگین الفاظ کا جامعہ پہنا کر بعید از حقائق توجیحات کو بروئے کار لاتے ہیں کہ ناطقہ سر بہ گریبان ہے کہ اسے کیا کہیے! بابا گورونانک کے اقرار توحید کی مدح سرائی میں کوئی ہرج نہیں۔ بھارت میں اکثریت کیلئے عقیدہ توحید ہمیشہ اجنبی رہا ہے اس لئے علامہ اقبالؒ نے بھی بابا جی کے جرا¿ت اظہار کو سراہا ہے۔ حضرت میاں میرؒ ایک صوفی منش بزرگ تھے، ان کے روا داری پر مبنی فعل کو شرعی تقاضے کی تکمیل سمجھنا درست نہیں۔ سکھوں میں اس نوازش فراواں کے بعد مسلمانوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے کبھی کوئی آثار نہیں آئے وہ بزعم خویش توحید کے قائل ہونے کے باوجود ہند کی بت پرست اکثریت کے جانب دار رہے۔ سماجی اور سیاسی تعلقات نیز ان کی اولین ترجیح ہندو رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت سکھوں کے ہاتھوں ہندو کمیونٹی کو ملک کے کسی حصے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا لیکن بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام اور عفت مآب مسلم خواتین کے ساتھ ان وحشی درندوں نے جو سلوک کیا وہ ہمارے لئے ناقابل فراموش ہے اور ناقابل معافی بھی!
(پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم بھٹی، کارکن تحریک پاکستان)