کراچی جل رہا ہے

مکرمی! 14اگست گزر گئی، لوگوں نے خوشیاں منا لیں یہ دوسری بات ان کے لیڈروں نے قومی پرچم گھروں سے اتارنے کی تاکید نہیں کی۔ وہ اسی طرح رات دن بارش کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ منزل کیسے آئی۔ ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے 1947ءکے قافلے چلتے رہے، وہ لوگ مثالی ملک کی امید میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے تھے مگر افسوس کراچی جیسا بڑا شہر آج آگ اور خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ 2001ء”تیری آنکھ“ کتاب سے ایک شعر آج بھی حالات کی عکاسی کر رہا ہے۔
کراچی میرا جل رہا ہے قافلہ 47ءچل رہا ہے
(کنور عبدالماجد خان)فون نمبر 0313-4638896