’’تنویر ظہور دیاں پنجابی ادبی خدمتاں‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’تنویر ظہور دیاں پنجابی ادبی خدمتاں‘‘

لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی ایم ایس (پنجابی) کی طالبہ روبینہ کرمانی نے معروف شاعر، ادیب، صحافی اور کالم نگار تنویر ظہور کی پنجابی ادبی خدمات پر ایم فل کا تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ ’’تنویر ظہور دیاں پنجابی ادبی خدمتاں‘‘ کے عنوان سے یہ مقالہ ڈاکٹر ثریا احمد (ایسوسی ایٹ پروفیسر لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی) کی زیر نگرانی مکمل کی گیا۔ یہ مقالہ ادارہ تسکین ذوق (40 سی ماڈل ٹائون لاہور) نے کتابی صورت میں شائع کر دیا ہے۔مقالہ کی نگران ڈاکٹر ثریا احمد نے اپنے فلیپ میں لکھا ہے کہ ’’روبینہ کر مانی نے اس مقالے میں تنویر ظہور کی علمی، ادبی اور زبان و ادب پر عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب کی بہت خدمت کی اور کر رہے ہیں۔ گزشتہ 40برسوں سے اپنا رسالہ سانجھاں (اردو پنجابی) شائع کر رہے ہیں۔ روبینہ کرمانی نے محنت سے مقالہ لکھا جو سراہے جانے کے قابل ہے‘‘۔مقالے میں انکی تمام کتابوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ مقالے میں تنویر ظہور کی شخصیت اور فن پر نامور شخصیات کے تاثرات بھی بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں جسٹس (ر) سید افضل حیدر، شریف کنجاہی، افضل توصیف، ظفر اقبال، فخر زمان، بشریٰ رحمن، اشفاق احمد، پروفیسر رمضان شاہد، ڈاکٹر حسن رضوی، ڈاکٹر اجمل نیازی، شفقت تنویر مرزا، خالد احمد، ڈاکٹر اسلم رانا، جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال، شبنم شکیل، شاہد لطیف، پروفیسر جیلانی کامران، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر دلشاد ٹوانہ، پروفیسر محمد منشا سلیمی، عباس تابش، اختر ہاشمی، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر طاہر تونسوی و دیگر شامل ہیں۔207صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 300 روپے رکھی گئی ہے۔ (برائے رابطہ، 0300-4426314) تبصرہ: غلام نبی بٹ