قومی اداروں کی کوڑیوں کے مول فروخت کیوں

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
قومی اداروں کی کوڑیوں کے مول فروخت کیوں

مکرمی! 15 دسمبر 2014 کو پرائیوٹائیزیشن کمیشن کی طرف سے ہیوی الیکٹرک کمپلیکس کی فروخت کا ٹینڈر آیا ہے۔ یہ سٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن کا ایک ذیلی ادارہ ہے یہ پلانٹ چائنہ سے تقریباََ ایک ارب روپے میں خریدا گیا تھا اور 1998 میں یہ مکمل ہو گیا تھا اس میں پچاس ٹن کپیسٹی کے ٹرانسفارمر بننے تھے جس کا واپڈا واحد خریدار تھا عرصہ بائیس سال میں شاید ایک یا دو ٹرانسفارمر پلانٹ کی ٹرائل کے دوران بنائے گئے اور باقی عرصہ یہ یونٹ صرف ٹرانسفارمرز کی مرمت ہی کرتا رہا۔ افسوس کی بات ہے کہ اس دوران کسی مجاز افسر نے جا کر نہیں دیکھا کہ پلانٹ پر ٹرانسفارمرز کیوں نہیں بن رہے۔سٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن کے دوسرے یونٹس کی بھی یہی صورتحال ہے پیکو جو کہ گورنمنٹ کے ٹیک اوور کرنے سے پہلے بیکو کے نام سے مشہور تھی وہ پاکستان کی واحد انجینئرنگ کمپنی تھی جس میں ٹربائین پمپس، لومرز، لیتھس، سائیکل، ٹرانسمیشن ٹاورز، سٹیل چینل اور سریا وغیرہ بنتے تھے۔ اب یہ ادارہ تقریباََ بند ہے اگر واپڈا سے ٹرانسمیشن ٹاورز کا تھیکہ مل جائے تو عارضی لیبر رکھ کر کام کرواتے ہیں یہ ادارہ لاہور میں واقع ہے۔ اسکے علاوہ ایچ ایم سی اور ایچ ایف ایف کی فیکٹریاں جو کہ ٹیکسلا میں واقع ہیں سٹیل مل کے بعد سب سے بڑی پاکستان کی بنیادی سٹیل فیکٹریاں تھی اس میں سیمینٹ اور شوگر ملز کے پارٹس کے علاوہ روڈ رولرز اور فیبریکشن کا کام ہوتا تھا اور ساڑھے چار ہزار سے زائد ورکرز کام کرتے تھے اب وہاں صرف چھ سات سو کے لگ بھک لوگ کام کر رہے ہیں اور پی ایم ٹی ایف کا بھی یہی حال ہے۔آپکی وساطت سے حکومت پاکستان کی وجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں یہ پراجیکٹس اربوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے اور ان پراجیکٹس نے گورنمنٹ کو اربوں کا نقصان دیا۔ مناسب ہوگا کہ اگر حکومت پاکستان ان یونٹس کیلئے ہائی پاورڈ کمیٹی بنا کر اصل صورتحال کا پتا چلائے کہ ایسا کیوں ہوا اور انکے ذمہ داران کا حساب بھی ضروری ہے جو ان میں منسلک رہے۔میں یہاں ایک چھوٹی سے مثال پیش کرنا چاہتا ہوں سیک کا ایک اور یونٹ سپیننگ مل لاہور میں تھا شاید بانوے ترانوے میں یہ ساڑھے سات کروڑ میں فروخت ہوا تھا اسکے ساتھ دو اڑھائی مربے زمین بھی تھی اس مل کے ذمے این ڈی ایف سی کا پینتا لیس کروڑ کا قرضہ بھی تھا جو قرضہ گورنمنٹ نے اپنے ذمہ لے لیا تھا لیکن کسی نے شکایت کر دی تو اس مل کی ڈیل کینسل ہو گئی تھی اور آج کل یہ مل سٹیل مل کے پاس ہے۔(انجینئر رشید احمد چودھری گورنمنٹ ایمپلائیز کو آپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی قائداعظم ٹائون لاہور)