Crafts of The Punjab

پنجاب کی زرخیز سرزمین میں جہاں انسانی زندگی اور نشو و نما کے لئے اعلیٰ قسم کی اجناس پیدا ہوتی ہیں وہاں اس مردم خیز خطے میں ایسے ہنرمندوں کی کمی نہیں جنہوں نے دستکاری کے ہنر کو عروج دیا۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جنوبی پنجاب کے ایسے علاقے ہیں جہاں کے مردوزن اپنے ہاتھوں کی جنبش سے آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے شاہکار تخلیق کرتے ہیں۔ مقبروں، مساجد اور دیگر عمارتوں پر کندہ کاری، شیشہ گری اور رنگین پتھروں کی آمیزش ان کی ہنرمندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہاں کی خواتین کی اکثریت اگرچہ ناخواندہ ہے لیکن ذہانت اور ہنرمندی ان کی گھٹی میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ خواتین سوئی اور رنگین دھاگوں کے امتزاج سے کپڑوں پر اس طرح کڑھائی کرتی ہیں کہ یہ کپڑے کی بنائی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ ان دستکاریوں کی ملک اور بیرون ملک بہت زیادہ مانگ ہے۔ خواتین کھجور کے پتوں سے چٹائیاں اور چنگیریں بناتی ہیں جو دیدہ زیب ہونے کے ساتھ ساتھ پائیدار بھی ہوتی ہیں۔ ان علاقوں کا لکڑی پر میناکاری کا کام بھی قابل دید ہے۔ بیرون ملک ان دستکاریوں کو نوادرات کی حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ جنوبی پنجاب کے علاقے زیادہ تر ریگستانی ہیں لیکن یہاں کے باسیوں نے اپنی ہنرمندی سے اس خلاء کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ حصول معاش میں آسانی رہے۔ پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی دستکاریوں پر چوتھا والیم شائع کیا ہے جس میں ان علاقوں کی دستکاریوں کی عمدہ کاغذ پر تصاویر اور انگریزی زبان میں مکمل تعارف موجود ہے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاح اور تاجر حضرات ان نادر مصنوعات کی طرف متوجہ ہوں اور زرمبادلہ کمایا جا سکے۔ عمدہ کاغذ کے 340 صفحات مع نادر تصاویر پر مشتمل مجلد کتاب پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے دفاتر سے دستیاب ہے۔