چیف جسٹس دادرسی کریں

مکرمی! میری مرحومہ بہن نذیراں بی بی زوجہ محمد لطیف نے 31 مارچ 1989ء کو 10 مرلہ کا مکان گلی نمبر 27 مین بازار مصطفی آباد (دھرم پورہ) لاہور میں رانا اصغر سے خریدا۔ اس مکان کی اصل رجسٹری ہمارے پاس ہے۔ 1998ء میں قبضہ گروپ نے ایک نائب تحصیلدار سے ملکر اسکی جعلی رجسٹریاں بنوا کر مکان پر قبضہ کر لیا۔
میری بہن نذیراں بی بی انصاف کیلئے ایڑیاں رگڑتی رگڑتی وفات پا گئی اور اسکی ایک یتیم مسکین بیٹی رخسانہ بی بی ہے جس کی نہ کوئی بہن ہے نہ بھائی۔ وہ اپنے مرحوم ماموں کے گھر پناہ لئے ہوئے ہے اور بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر بمشکل گزر اوقات کرتی ہے یہ مکان میرے اور نذیراں بی بی کے نام پر ہے۔ میرا کوئی بھائی نہیں ہے جبکہ تین جوان بیٹیاں ہیں۔
قبضہ گروپ نے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ٹائون ہال میں کلرک کو ڈیڑھ لاکھ دے کر پاکستان ہندوستان بننے سے پہلے کا نقشہ بھی تبدیل کروا دیا ہے میں اور میری بہن مرحومہ نذیراں بی بی کی بیٹی رخسانہ ٹائون ہال مال روڈ لاہور گئیں تو کلرک نے کہا میں نے ان سے ڈیڑھ لاکھ لیا ہے‘ آپ صرف دعائوں سے نقشہ مانگتی ہیں‘ چلو بھاگو جائو میں 1932ء ہندو پراپرٹی کا نقشہ جلا دوں گا مگر آپ کو نہیں دوں گا۔ عدالت عالیہ اور حکام سے استدعا ہے کہ میری مرحومہ بہن کا حق اس کے جائز وارثوں کو دلایا جائے۔ (جمیلہ بی بی مصطفی آباد دھرم پورہ لاہور۔ فون نمبر 0300-4412868)