و اولی الامر ……

مکرمی! قانون فطرت ہے Might is right سے انکار نہیں اس کا اطلاق آٹومیٹک ہماری زندگیوں میں جاری و ساری ہے غلط جانب سے بڑا ٹرک سڑک میں گھس آئے تو چھوٹی گاڑیوں کا مودب ہو جانا قدرتی امر ہے۔ جنگل میں طاقتور کا راج ہے بڑے چھوٹوں پر رعب ڈالتے ہیں۔ علم کی طاقت والا بے علموں کا بادشاہ ہے، تاریخ انسانی میں طاقت والوں نے ملک فتح کئے، اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کیں۔ مسلمان حکمرانوں نے قاضی مقرر کئے، حاکم قاضی سے کام لیتے تھے روزمرہ کے لوگوں کے قضیہ نمٹانے کے ، قاضی حکمرانوں کو معزول نہ کرتے تھے حکمران قاضی معزول و مقرر کرتے تھے کہ طاقت کے سرچشمے سے اصول و قانون بہتا تھا۔ یہ سارا تو خدائی طریقے کے زمرہ میں آتا اور بخوبی خود بخود ہو رہا ہے یہ جمہوریت اور اس کے ذیلی ادارے، پارلیمنٹ ، آئین، قوانین وغیرہ جو قوانین فطرت سے متصادم ہیں اکثر و بیشتر ناکامی سے دوچار رہتے ہیں۔ یہ مرد عورت کی مسابقت کا معاملہ لے لیں دونوں کی خصوصیات الگ الگ خوبصورتی کی حامل ہیں اور ہم ہیں کہ تقابل کے چکر میں پڑ کر قانون فطرت کو مسخ کرتے ہیں اسے محبت کی بجائے تجارت بناتے ہیں اور انسانی منطق کے تابع کرنے کی بھونڈی کوشش کرتے ہیں۔ ملکی آئین بشری دستاویز ہے اسے استعمال میں لا کر یہ بات ثابت ہے کہ ’’ واولی الامر منکم‘‘ سے انحراف کام کی بات نہیں قانون فطرت انسانوں کے ختم کرنے کی چیز نہیں ہے۔ جذبہ اسلامی اور جرأت رندانہ سے کام لیتے ہوئے آئین سے غیر فطری چیزیں خارج کی جائیں اور اللہ کا راج نافذ ہو۔ قرآن نافذ ہونے سے قرآنی برکات ملیں گی مغرب بھی اپنی الہامی کتب سے رغبت رکھے تو سکون حاصل کرے۔
(معین الحق 266-P ماڈل ٹاتن لاہور 042-5164587)