وزیراعظم کے نام کھلا خط

مکرمی! ہم وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی خدمت میں عرض کریں گے کہ اللہ نے آپ کو مخدوم ہونے کا موقع دیا ہے یہ اس کی نعمتیں ہیں اس کے پسندیدہ دین کو یوں بدنام کرنے کی مہم کا حصہ نہ بنیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ بیت اللہ محسود کے مرنے یا مارے جانے سے بندوق کا زور نہیں ٹوٹے گا یہ زور عمل داری اور دلیل کی رٹ قائم کرنے سے ٹوٹے گا نہ کہ اسلام کو نت نئی چالوں سے بدنام کرنے سے ٹوٹے گا جب تک امریکہ موجود ہے افغانستان میں نیٹو افواج موجود ہے۔ اس وقت تک یہ زور نہیں ٹوٹے گا جس دن امریکہ رخصت ہو گا یہ زور اس دن ٹوٹے گا۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ اسلام کسی کی جاگیر، میراث اور ملکیت نہیں ہر کوئی فوجی آپریشن، خودکش بمبار یا بیت اللہ محسود نہیں ہے۔ اسلام ان تمام سے مبرا اور بلند ہے اس کا نفاذ حکمت اور دعوت سے ہی ممکن ہے کوئی بندوق اسلام نافذکر سکی اور نہ کرا سکے گی یہ قوت کا نہیں دل و دماغ اور سیرت کا معاملہ ہے۔ اسلام اپنے اندر دفاع کی قوت اور تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اسے اپنے مسلح دفاع اور مسلح دفاعی دستوں کی ضرورت نہیں ہے یہاں دعوت دینے والے پاؤں کو کاٹنے کے لئے راستے مسدود نہ کئے جائیں۔ (روبینہ ارشد اور اہل گجرات )