پادری ٹیری جونز اور پرویز مشرف

مکرمی! سانحہ سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے ظالمانہ قتل پر ماہرین قانون نے مارنے والوں اور تماشہ دیکھنے والوں کو برابر کا مجرم اور سزا کا مستحق قرار دیا ہے۔ یہ تسلیم کر کے ہم نے سانحہ لال مسجد اور جامع حفصہ پر نہ صرف اقبال جرم کر لیا ہے بلکہ حالیہ سیلاب میں خود پر حجت قائم کر لی ہے۔ سانحہ لال مسجد اور سانحہ سیالکوٹ کی طرف حرمت قرآن پر ہمارا معیار دوہرا ہے۔ ایک طرف امریکی سرپرستی میں پادری ٹیری جونز قرآن پاک نذر آتش کرنے کے اعلان پر پورا ملک سراپا احتجاج ہے تو دوسری طرف جانب امریکی سرپرستی میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں قرآن جلانے والے پرویز مشرف کو پروٹوکول سے رخصت کرتے ہیں اور امریکی ایماء پر اسے ہر جگہ عزت دی جاتی ہے۔ پرویز مشرف کے اس عمل سے بھی عالم کفر کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ آئے دن توہین رسالت اور توہین قرآن کے اعلان کر کے (جہاد کو دہشت گردی کہنے والے) مسلمانوں کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں۔ پرویز مشرف کی توہین قرآن کی جسارت پر ہماری خاموشی جرم نہیں، کیا پرویز مشرف مجرم نہیں؟ یا اس جرم کو تسلیم کرنے کیلئے ہم کسی سانحہ کے منتظر ہیں۔ پرویز مشرف کو تحفظ دینے والے حکمران کہتے ہیں کہ تاریخ میں ایسا سیلاب کبھی نہیں آیا حکمران بھول گئے کہ اس ملک میں گزشتہ 12سال سے جو کام ہوئے وہ بھی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے تھے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ تحفظ قرآن، ناموس رسالتؐ اور تحفظ اسلام احتجاجی مسلمانوں سے نہیں جہادی مسلمانوں سے ہی ہو گا۔ یہ اصول قدرت ہے۔ (واجد ظہور لاہور)