مشرف نفرت کے سمندر میں ڈوب گئے

مکرمی! جناب مشرف صاحب سابق صدر پاکستان کا بیان روزنامہ نوائے وقت میں نظر سے گزرا۔ موصوف نے اپنے بیان میں فرمایا ہے کہ ’’جو لوگ کہتے ہیں کہ میں ملک نہیں آؤں گا وہ مجھ سے ڈرتے ہیں۔ میں صحیح وقت پر وطن واپس آؤنگا‘‘۔ جہاں تک لوگوں کے ڈرنے کا سوال ہے تو وہ قرین قیاس نہیں ہے کیونکہ جب وہ پاکستان کے حاکم اعلیٰ تھے اور فوجی ڈنڈا بھی ان کے ہاتھ میں تھا‘ اس وقت ڈرنا تو حق بجانب ہو سکتا تھا لیکن اب جب کہ نہ تو وہ ملک کے سربراہ ہیں اور نہ ہی فوج کی سربراہی کا تاج ان کے سر پر ہے۔ ان حالات میں موصوف سے لوگوں کا ڈرنا ناقابل فہم ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ موصوف کے عوام کے ساتھ نامعقول اور ظالمانہ رویے مثلاً عربی مدرسہ کی معصوم بچیوں پر سنگدلانہ بمباری‘ مولانا عبداللہ کے بیٹے کو شہید کر دینا اور پاکستان کے واجب الاحترام چیف جسٹس آف پاکستان جناب چودھری افتخار محمد صاحب کی عزت نفس کو چیلنج کرنا‘ طلب کر کے ہتک آمیز گفتگو کرنا اور پھر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظربندی ایک اذیت انگیز عمل تھا۔ موصوف کی امریکہ نواز پالیسی پاکستانی عوام کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔ اسی طرح امریکہ کی ایماء پر ان کی پرواسرائیل پالیسی بھی عوام کی نظر میں ناپسندیدہ عمل تھا۔ یہ ایسے واقعات ہیں جن سے ان کی شہرت داغدار ہوئی اور وہ عوام میں غیر معقول ہوئے۔ ان حالات میں یہ کہنا کہ میں صحیح وقت پر وطن واپس ضرور آؤنگا‘ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے وہ دراصل قوم کی نفرت کا نشانہ ہیں جس کا سامنا نہیں کر سکتے۔ (حاجی دربارالحق …مکان 1149‘سیکٹر G10-4‘ 10th‘ ایونیو‘ اسلام آباد)