ذوالفقار چیمہ کے جانے کے بعد

مکرمی!مورخہ17-9-2010 کو میرے بیٹے کو پولیس نے اس جرم کے تحت گرفتار کرلیا جس کو دو دفعہ سیشن کورٹ انکوائری کے بعد بیگناہ قراردے چکی تھی۔ جس کے ثبوت میرے پاس موجود تھے۔بعد از گرفتاری امتیاز نامی محرر سے FIR کی نقل کیلئے اپیل کرنے پر اس کا بار بار یہ کہنا کہ اب ذوالفقا ر چیمہ نہیں ہے جو تھوڑی تھوڑی ہماری شکایت پر ہمیںطلب کرلیتا تھا۔ ہمیں ہی نہیں ہر آنے والے سائل کو یہ سنا رہا تھا کہ عوام جو اپنے آپ کو عزت دار سمجھنے لگے تھے وہ دوبارہ محتاط ہوجائیں کہ جو پولیس کو ہر وقت تلقین کرتا رہتا تھا کہ شریف شہریوں کی پولیس تھانے آنے پر عزت کرے یہ تو معلوم نہیں کہ RROصاحب نے ان کو عوام کی تذلیل کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور میں یہ سمجھ بھی نہیں سکتا کہ اتنا ذمے دار آفیسر عوام کو ذلیل کرنے کا لائسنس دے۔بہر حال محرر صاحب نے اپنی تمام لیٹ جو شاید ذوالفقار چیمہ کی وجہ سے تھی نکال لی۔بعد ازاں جو سلوک تھانیدار اور قابل احترام جنابSHO صاحب نے کیا وہ بیان نہیں کرسکتا کہ مجھے اپنی جان عزیز ہے۔میں نے جمہوریت کی خاطر کافی دفعہ جیل یاترا کی ہے۔ سوچتا ہوں کہ کیا اسی کرپٹ نظام کیلئے۔ ٹی وی چینلوں پر تو پولیس تشدد کی ایک فیصد بھی خبر نہیں آتی۔ میری وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، صدر جناب آصف علی زرداری سے اپیل ہے میرے ساتھ جو زیادتی کی گئی ہے اور باقاعدہ دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ مجھے تحفظ دیاجائے اور ان لوگوںنے جو بلیک میل کرکے رقم وصول کی ہے وہ واپس دلائی جائے اور جناب RRO صاحب گوجرانوالہ سے اپیل ہے کہ عوام کی حالت پر خصوصاً وزیرآباد کی عوام پر رحم فرمادیں۔محمد یوسف جنجوعہ، سابق کونسلر بلدیہ الہ آباد وزیر آباد،0300-8644755