خرابیاں ہزار… علاج ایک

مکرمی! قومی لیڈروں کی جعلی ڈگریاں ہوں یااربوں کی لوٹ کھسوٹ، پولیس گردی ہو یا عوامی تشدد کا رجحان، معاشی خرابیاں ہوں یا معاشرتی، سیاسی ہوں یا سماجی ان سب کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے اور وہ ہے بے حسی، قومی تقاضوں سے بے حسی، ظلم و زیادتی کرنے سے بے حسی، سزا کے خوف سے بے حسی اور یہ بے حسی پیدا ہوتی ہے کہ جب اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل جائے۔ چار پایوں والی چارپائی پر اخلاقی اقدار کا جنازہ چار چیزوں کی وجہ سے نکلتا ہے: دولت کی ہوس، اقتدار کی ہوس، شہوت کی ناجائز تکمیل اور مادر پدر آزادی کا سیکولر فلسفہ پھر مادر پدر آزادی کا کا سیکولر فلسفیہ ہی دراصل باقی خرابیوں کی وجہ بنتا ہے۔ ہمیں خدا اور رسولؐ کی تعلیمات سے بے بہرہ کرنے والے نظریات نے گھیر رکھا ہے۔ ہم سائنس دان، معیشت دان، سیاست دان، ڈاکٹرز اور انجینئرز تو تھوک کے حساب سے پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن باکردار، بااخلاق سائنس دان، سیاست دان، معیشت دان پیدا کرنا ضروری نہیں سمجھتے اس لئے اخلاقی اقدار کی پامالی ہمارے یہاں جائز ہے، مخلوط تعلیم بھی جائز ہے، میڈیا پر عورت کی بے حجابی بھی جائز ہے، سود کے ذریعے ظلم کا نظام بھی رائج ہے، مغربی تعلیمی اداروں کا فروغ بھی جائز ہے، علماء دین کا قتل عام بھی قبول، امریکہ کی غلامی بھی قبول، ڈالرز بھی قبول ہیں۔ حرص و ہوس، ظلم و زیادتی، قتل و غارت گری، فحاشی و بدمعاشی، جھوٹ اور دھوکہ دہی جیسی اخلاقی بیماریوں کے جراثیم ہمارے قومی جسم میں سرایت کر چکے ہیں تو دینی اخلاقی نظام کی تعلیم اور نفاذ سے بیمار کا آپریشن کر کے بیماری کو جڑ سے اکھاڑنے کا کام ہو سکتا ہے۔(خواجہ خورشید احمد)