جمہوریت کی آخر یہ کونسی قسم ہے؟

مکرمی!جس جمہوریت پر آج وارثانِ جمہوریت اتنے نازاں و فرحاں نظر آتے ہیں۔کافی غورو خوض کے بعد بھی عام لوگ یہ سمجھ نہیں پائے کہ دنیا میں رائج معروف و مقبول جمہوریتوں سے الگ اور وکھری ہی ٹائپ کی جمہوریت کی آخر یہ کونسی قسم ہے۔ جو اپنے ہاں متعارف ہے او ر جسے کوئی بڑے سے بڑا لیڈر اس بنا ء پر نہیں چھیڑ رہا کہ کہیں یہ ڈسٹرب ہی نہ ہوجائے۔ خواہ اس بد شکل جمہوریت کے ہاتھوں سارا ملک ہی یرغمال بنتا ہے تو بن جائے۔اس جمہوریت کا ظاہری لبادہ تو پہلی رات کی دلہن کے لباس جیسا ہے ایک دم شاندار۔ لیکن ان کے اندر گھونگھٹ نکالے بیٹھی دولہنیا کی اپنی شکل بالکل چڑیل جیسی ہے۔ یہ خوفناک لمبے لمبے دانت اور ناخن، خونخوار آنکھیں ہر کسی کا منہ نوچنے کی خواہشمند، گھونگھٹ اٹھاتے ہی دولہا میاں(عوام) کے ارمانوں پر تو اوس ہی پڑ گئی۔ اسے شدت سے احساس ہونے لگا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے دکھایا کچھ گیا تھا گلے کچھ اور ڈال دیا گیا ہے۔ اب دولہا میاں (عوام) مشکل صورتِ حال سے دوچار ہے۔ آئو دعا کریں کہ اللہ پاک دولہا میاں کی پریشانیاں دور فرمائے۔محسن امین تارڑ ایڈووکیٹ لاہور0331-6442093