بحران ٹالنے کیلئے ہجوم نہیں قوم کی ضرورت …

مکرمی! پاکستان میں بجلی کے حوالے سے حالات اتنے سنگین نہیں جس قدر ان کا چرچا کیا جا رہا ہے۔ بعض سیاسی عزائم رکھنے والے عناصر بھی ملک میں انارکی پھیلانے کیلئے لوڈشیڈنگ کو انتہائی سنگین مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان حالات میں عوام کو ان حقائق سے آگاہ کرنا انتہائی ضروری ہے جن کے سبب بجلی کا حالیہ بحران فوری طور پر ٹل سکتا ہے عوام کے بھرپور تعاون سے حالات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔ عوام کو بجلی کی فضول خرچی روکنے کیلئے بچت کی قومی پالیسی پر اس روح کے ساتھ عمل کرنا ہو گا۔ بجلی چوری روکنے کیلئے بھی بھرپور عوامی کردار نبھانے کی ضرورت ہے۔ حقائق کی روشنی میں جمع ہونیوالے اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی فضول خرچی میں ہر طبقہ کے افراد شامل ہیں۔ اے سی‘ فریج‘ ٹی وی‘ استریاں‘ جوسر مشینیں رکھنے والے صارفین ان کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں۔ ہفتے میں دو چھٹیوں اور رات 8بجے دکانیں بند کرنے کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کی بچت ہوئی اور حالات میں بہتری آئی ہے بلکہ سینکڑوں بند کارخانے چالو ہوئے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار بچا لیا گیا۔ علاوہ ازیں رات کو جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کے صحت مند کلچر کو بھی فروغ ملا۔ بجلی کی بچت کو شعار بنائے بغیر لوڈشیڈنگ سے نجات کی صورت بنتی دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان میں دنیا کے مختلف ممالک کے مقابلے میں صورتحال مختلف ہے حالات اس قدر سنگین نہیں۔ بجلی کے بحران سے خود نمٹنے کیلئے مشتعل ہجوم کی نہیں قومی مفاد کو مقدم رکھنے والی قوم کے ایثار کی ضرورت ہے۔ قیام پاکستان والے قومی جذبہ کیساتھ بحرانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے سے کوئی بحران اور مسئلہ باقی نہیں رہیگا۔ (گلزار احمد طاہر)