ڈائریکٹر جنرل نیشنل سیونگز سے اپیل

مکرمی! میری والدہ کا نیشنل سیونگز سنٹر بھاٹی گیٹ میں گذشتہ 8 برسوں سے اکاؤنٹ ہے۔ بہبود سرٹیفکیٹ پر ششماہی منافع کیلئے گذشتہ روز انہوں نے اپنے دستخطوں سے چیک بک بمعہ سرٹیفکیٹ میرے حوالے کی جسے میں نے سنٹر کے عملے کو پیش کیا تو انہوں نے مجھے منیجر کے پاس بھیج دیا۔ منیجر برانچ نے چیک کو قبول نہ کرتے ہوئے والدہ کو ساتھ لانے کی شرط عائد کر دی۔ اس پر میں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میری والدہ کی عمر 80 برس کے قریب ہے اور اس شدید گرمی میں انہیں چیک پر ادائیگی کے بجائے یہاں بلانے پر آپ کو شرم آنی چاہئے۔ میرے منہ سے یہ جملہ ادا ہی ہوا تھا کہ منیجر نے اپنی کرسی سے اٹھ کر مجھ کو گریبان سے پکڑ لیا اور مجھ پر چیختے ہوئے دست درازی کرتے مجھے دفتر کے اندرونی حصے میں کھینچ کر لے گیا جہاں گارڈ اور دیگر عملے نے بھی مجھے دھکے دے کر وہاں روکے رکھا۔ اس دوران منیجر نے پولیس بلانے کی دھمکی دی تو مارپیٹ سے بچنے کیلئے میں اصرار کرتا رہا کہ پولیس کو بلاؤ۔ میں خود گرفتاری دینے کیلئے تیار ہوں لیکن منیجر بضد رہا کہ میں خود تمہیں ٹھکانے لگا سکتا ہوں۔ پولیس کس لئے بلاؤں۔ یہ کہتے ہوئے عملہ مجھے دھکے دیتے ہوئے باہر لے آیا اور منیجر نے اس دوران میری چیک بک اپنی میز سے اٹھا کر زمین پر دے ماری اور عملے سے کہتا رہا کہ اسے دھکے دے کر نکال دو۔ میرا حکام سے سوال ہے کہ ایک سرکاری ملازم کسی اکاؤنٹ ہولڈر سے کس حیثیت میں دست درازی کر سکتا ہے۔ (نعیم الحسن - موبائل فون 0333-4870581)