مجذوب کی بَڑ

مکرمی! اخبارات کا مطالعہ بھی آجکل برے صبر اور حوصلے کی آزمائش بن کر رہ گیا ہے۔ آنسوئوں سے رلانے اور دل کو دکھا دینے والی خبروں میں 10 مئی کی ایک رکشہ ڈرائیور نے بے روزگاری سے تنگ ہوکر خاندان کی کفالت نہ کر سکنے پر ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی۔ آپ حیران ہوں یا پریشان‘ سر کو پیٹیں یا آنسو بہائیں کچھ فرق نہیں پڑے گا مجبوری کے ہاتھوں زندگی ہار جانے والا تو جاچکا ہے۔ وہ اب دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ 11 مئی کی خبر ہے امریکہ میں پاکستانی سفیر کا عشائیہ‘ دو ہزار افراد شریک صرف 5 لاکھ ڈالر خرچ آیا جو پاکستانی 40 کروڑ روپے بنتا ہے۔ اس حساب سے ایک وقت کے کھانے پر فی کس یعنی ایک آدمی کیلئے صرف 20 ہزار روپے کا معمولی سا خرچ آیا ہے۔ 13 مئی کے اخبار میں 9 خودکشیاں جس میں غربت سے تنگ تین بچوں کی ماں نے زندگی ختم کر لی۔ اسی روز کے اخبار میں ایک عنوان یہ بھی ہے ’’پنجاب میں بیوروکریسی کی شاہ خرچیاں‘ 2 کروڑ کے بلیک بیری سیٹ خریدے جائیں گے اور موبائل فون کا بل افسران کیلئے 6 ہزار روپے ماہانہ کر دیا جائیگا۔ 16 مئی کے اخبار میں ایک کارٹون کے ذریعہ قوم کو بتایا جارہا ہے کہ صدر محترم کی ایک رات رہائش کیلئے امریکی ہوٹل کا کرایہ 4 لاکھ روپے ادا کیا گیا۔ قیام کتنے دن کا تھا اللہ جانے میری سوچ تو صرف اتنی سی ہے اگر بے حال تنگ دست‘ بے بس و بے کس غریب خاندانوں کیلئے ریڑھی لگانے کی خاطر صرف 20 ہزار روپے بطور قرض حسنہ ہی دے دیا جاتا تو اس طرح 20 خاندانوں کی یعنی کم سے کم 100 انسانوں کی کفالت کا باآسانی بندوبست ہوسکتا تھا۔ یاد رہے 20 ہزار روپے کی یہ رقم ایک وقت کے کھانے پر ایک آدمی کیلئے خرچ ہوئی ہے جس سے 100 انسانوں کی طویل مدت تک اشک شوئی کی جاسکتی تھی۔ کس پر کیا بیت رہی ہے اور کون کِس حال میں ہے غریبوں کے حال سے باخبر رہنے کیلئے آج کے الیکٹرانک دور میں فول پروف بندوبست کیا جاسکتا ہے مگر اہم ترین سوال تو یہ ہے کہ ایسا کرے گا کون؟ ان خبروں میں مزید تبصروں کی ضرورت ہے نہ گنجائش جوں کی توں پیش خدمت ہیں۔ دانشور حضرات جانیں اور کالم نگار۔ میں نے دکھی دل اور بہتے آنسوئوں کے ساتھ حقیقت حال بیان کرنے کی ایک کوشش ضرور کی ہے جسے مجذوب کی بَڑ سمجھ کر نظرانداز کر دیا جانا ہی قرین انصاف ہوگا۔ (ایم اے ذکی کارکن تحریک پاکستان)