نواز شریف کی حس ِ مزاح

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
نواز شریف کی حس ِ مزاح

مکرمی! وزیراعظم نواز شریف عمران خان سے ملاقات کرنے انکے گھر پہنچ گئے۔ انکی اعلیٰ ظرفی کا تاثر پوری قوم نے محسوس کیالیکن میں نے اسکے علاوہ بھی جو چیز محسوس کی اسے بہت انجوائے کیا۔ شاید اب تک مزہ لے رہا ہوں‘ جب نواز شریف نے عمران خان کے پا¶ں کی طرف دیکھا تو پوچھا ”خان صاحب یہ پشاوری چپل طالبان نے دی ہے؟ نواز شریف کی مزاح کی حس کو میں نے آج سے بہت پہلے جب وہ ساڈا میاں آوے ای آوے کی حدود میں تھے‘ جان لیا تھا‘ واقعہ اس طرح ہے کہ میں اپنے مرحوم دوست نعیم بٹ کے ساتھ نواز شریف کی ابتدائی سیاسی میٹنگوں میں جایا کرتا تھا۔ نعیم مرحوم نواز شریف کے بے تکلف قسم کے دوست تھے۔ ایک روز ہم کچھ لوگ خواجہ ریاض محمود کے ساتھ نواز شریف کو نسبت روڈ اور گوالمنڈی کی گلیوں میں لوگوں سے متعارف کرا رہے تھے۔ گوالمنڈی چوک میں پہنچ کر ایک دودھ دہی کی دکان پر خواجہ ریاض محمود نواز شریف کا تعارف کرا رہے تھے۔ نعیم بٹ مرحوم نے نواز شریف کو کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ ملک کے سنجیدہ مسائل پر گفتگو ہو رہی تھی‘ نواز شریف نے جھک کر نعیم بٹ کے کان میں کہا۔ ”بٹ جی سامنے پڑی کھیر مزیدار لگتی ہے“ میں چونکہ نعیم بٹ کے ساتھ کھڑا تھا میں نے سن لیا۔ ان واقعات کو گزرے بہت سال ہو گئے۔ نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے لیکن انکے مزاح کی حس کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ مسائل کا حل پیار محبت اور خلوص نیت ہے پکا سا منہ بنانے سے مسئلے حل نہیں ہوتے‘ اسی طرح ہنسے کھیلتے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ (ماجد علی شاہ 302 اقبال ایونیو جوہر ٹا¶ن لاہور)