’’عوام کے روزمرہ مسائل کا حل‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’عوام کے روزمرہ مسائل کا حل‘‘

مکرمی! ہمارا سب سے بڑا قومی عوامی اجتماعی مسئلہ ہی ہر دور میں یہ رہا ہے کہ عوام کے روزمرہ مسائل کا حل کیا ہے؟ آزادی سے لیکر تادم تحریر ہم اسی گورکھ دھندے میں گرفتار ہیں۔ مسئلے کا اور اس کے حل کا تعین کیا جائے۔ میٹرو بس‘ اورنج لائن ٹرین‘ سولر انرجی یا سڑکوں کا جال پھیلانے سے مسئلے حل ہوتے ہیں نہ اس دکھلاوے سے اقتصادی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ اصل میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عوام کو اس بات کا عادی بنا دیا ہے کہ وہ بے ہنگم ماحول میں جئیں یا مریں۔ حکومت وقت کو ڈسٹرب نہ کریں۔ حکومت کی پالیسی ہے وقتی حادثاتی اور مقامی یعنی اگر سر میں درد ہے تو پونسٹان دے دو۔ آنکھیں خراب ہیں تو ڈراپس ڈال دو اور بخار ہے تو پیرا سیٹا مول سیرپ ہی کافی ہے۔ پالیسی ساز ادارے بھی ہیں‘ لیکن پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے والا کوئی نہیں۔ عدالتی فیصلے صادر ہو چکے ہیں پر عملدرآمد معطل کردیا گیا ہے۔اگر آج کوئی مرد مجاہد خالی خولی ایمان نہیں بلکہ قوت ایمانی جذبہ ایمانی اور غیرت ایمانی سے سرشار ہوکر صرف تقویٰ کا ہتھیار لیکر میدان کا مرد بن جائے تو پھر آپ اس کے کرشمات کا عملی نظارہ اپنی زندگی میں ہی کر لیجئے گا۔(محمد ارشد فانی، لاہور کینٹ)