وسط مدتی انتخابات۔ عوام کے مسائل کا حل نہیں

مکرمی! پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مڈٹرم انتخابات کا کوئی امکان نہیں اگر ہوئے تو بلاول زرداری بھٹو اس میں حصہ لے گا۔ ان کا یہ بیان پیپلز پارٹی کی دبے لفظوں میں یہ خواہش ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی مڈٹرم الیکشن کے ذریعے اپنا تسلط مضبوط کرنا چاہتی ہے اگر دیگر سیاسی قوتیں دباﺅ ڈالیں تو پی پی پی وسط مدتی انتخابات کے لئے تیار ہو جائے گی۔ پی پی پی کو علم ہے کہ موجودہ کساد بازاری اور معاشی بحران کی وجہ سے حالات دن بدن خراب ہوتے جائیں گے اور ان کے لئے انتخابات جیتنا مشکل ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں(جو حکومت کے خود پیدا کردہ ہیں) مسلم لیگ(ن) چاہے گی کہ یہ حکومت اپنی مدت پوری کرے تاکہ عوام حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کوئی فیصلہ کرے۔ میاں نواز شریف اسی لئے بار بار یہ بات دھراتے ہیں کہ ہم حکومت کو گرانے کی کوشش نہیں کریں گے اور حکومت اپنی میعاد پوری کرے گی۔ میاں نواز شریف کو بخوبی علم ہے کہ حالات مسلسل ان کے حق میں جا رہے ہیں اور حکومت کی ناقاص پالیسیوں کی وجہ سے ان کا گراف بلند ہو رہا ہے ایسے حالات کو ٹارگٹ بنا کر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف چاہیں گی کہ مڈٹرم الیکشن ہوں اور انہیں سیاسی عمل کا حصہ بننے کا موقع ملے 2008ءکے الیکشن میں انہوں نے باہر رہ کر جو غلطی کی تھی اس طرح وہ اپنی خفت مٹانا چاہتی ہیں۔ جہاں تک پی پی پی کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کا تعلق ہے اگر انہوں نے حالات کی سنگینی کو نہ سمجھا اور عوام کو ریلیف نہ دیا تو آنے والے حالات ان کو سیاست سے باہر بھی کر سکتے ہیں۔ پی پی پی کی مرکزی قیادت کو جائزہ لینا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ انہوں نے گذشتہ دو سال کے دوران عوام کا کتنی بار گلا گھونٹا ہے۔ (کے ایم اسلم بٹ۔ گوجرانوالہ فون0300-6474244)