لاپتہ افراد

مکرمی! معاملہ انتہائی سنجیدہ، تشویشناک اور پیچیدہ ہو گیا ہے صورتحال یہ ہے کہ جیسے کسی کو یہ پتہ نہیں کہ کس وقت کس جگہ بم بلاسٹ ہو جائے ا ور گھر پہنچنا نصیب نہ ہو بالکل ایسے ہی کسی کو یہ بھی پتہ نہیں کہ اس کو کس وقت اچانک اٹھا لیا جائے گا اور گھر والے دربدر اس کو ڈھونڈتے پھریں گے۔ نجمہ ثناءکیس میں آئی جی اسلام آباد کلیم امام کو بھی یہ پتہ نہ تھا کہ نجمہ ثناءکو کیوں اٹھایا گیا اور سپریم کورٹ نے بھی معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر ہی کیس نمٹا دیا جس سے ہر شخص اپنی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی ایک لہر اٹھتی محسوس کر رہا ہے۔ عامرہ احسان نے اپنے 7جنوری کے کالم میں جنرل پاشا کو متوجہ کیا انہوں نے الزام یہ لگایا ہے کہ ”عقوبت خانے سے اصل پیغام صرف یہ آرہا ہے کہ درس قرآن بند کرو“۔ (کالم نظریاتی دہشت گردی نوائے وقت 14جنوری 2010) نوائے وقت کے 14جنوری ہی کے کالم شفق میں ڈی جی، ایف آئی اے کی عدالت میں کپکپاہٹ کا ذکر کیا ہے لیکن یہ بھی لکھا ہے کہ سویلین حکومت ان خفیہ اداروں کے سامنے بدستور بے بس ہے جیسا کہ 30دسمبر کو گوادر میں چاروں وزرائے اعلیٰ کی لاپتہ افراد کے بارے میں مشترکہ اپیل کو ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔ نجمہ ثناءکیس میں سپریم کورٹ کی ہدایات جامع اور شفاف ہیں کہ کوئی باضابطہ طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئے ایک شہری کی حیثیت سے میری خفیہ اداروں کو دو درخواستیں ہیں ایک یہ کہ قومی اخبارات میں افراد اور اداروں کےلئے واضع ہدایت جاری کریں کہ کس طرح کے طرز عمل کی وجہ سے کوئی مصیبت میں پھنس سکتا ہے تاکہ لوگ قانون کی پابندی کریں دوسری درخواست یہ ہے کہ اگر خفیہ ادارے صرف تھوڑا عرصہ اور انتظار کر لیں تو ان کو کسی کو اٹھانے کی زخمت ہی نہیں کرنی پڑے گی کیونکہ جس میں انڈے 106روپے درجن، آٹا33روپے کلو ہو اور خواتین رات دو بجے گیس آنے کے بعد کھانا پکا رہی ہوں اور ان لامتناہی مصیبتوں اور مشکلوں کی وجہ سے یہ قوم ویسے ہی سسک سسک کر اور زندگی کے دن گن گن کر گزار رہ ہو وہاں نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔(ڈاکٹر محمد سلیم ماڈل ٹاﺅن لاہور0331-4905108)