علم دوست وزیراعلیٰ کے نام

مکرمی! وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ دوسرے صوبوں کے پوزیشن ہولڈرز طلبا و طالبات میں لیپ ٹاپس تقسیم کر کے یہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ طلبا و طالبات کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلانے کیلئے حکومت پنجاب 2.5 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ سولر ہوم سسٹم کی فراہمی کا آغاز بھی کر رہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ طلبا کی تعلیمی سرگرمیوں کے آڑے نہ آئے۔ خادم پنجاب کا یہ سنہری قدم یقیناً تعلیمی انقلاب میں مددگار ثابت ہو گا۔ یہ سولر ہوم سسٹم گورنمنٹ سکولز و کالجز کے علاوہ دانش سکولوں‘ دینی مدارس‘ ٹیوٹا کے اداروں‘ ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے اداروں‘ PEEF سکالرز اور خصوصی تعلیم کے سکولوں میں زیرتعلیم طلبا و طالبات کو دیئے جائیں گے۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ خادم اعلیٰ پنجاب کی جب بھی کوئی علم دوست پالیسی بنتی ہے اس میں پنجاب بھر کے 33 گورنمنٹ ایلیمنٹری کالجز جو یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے الحاق شدہ ہیں اور ان کالجز میں ایسوسی ایٹ ڈگری ایجوکیشن‘ بیچلر آف ایجوکیشن اور ایم اے ایجوکیشن کی کلاسز ہوتی ہیں کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے۔ پنجاب کے تمام گورنمنٹ کالجز کے ذہین طلبہ کو لیپ ٹاپس دیئے لیکن گورنمنٹ ایلیمنٹری کالجز کے طلبا و طالبات کو لیپ ٹاپس سے محروم رکھا گیا اور اب جبکہ پنجاب کے تمام گورنمنٹ اداروں کے طلبا کے علاوہ دانش سکولز اور دینی مدارس تک کے طلبہ کو اجالا پروگرام کے تحت سولر ہوم سسٹم دیئے جا رہے ہیں لیکن اس اجالا پروگرام میں بھی گورنمنٹ ایلیمنٹری کالجز کو ہی نظرانداز کیا گیا۔ مسلسل پنجاب کے 33 گورنمنٹ ایلیمنٹری کالجز کو نظرانداز کر کے خادم اعلیٰ پنجاب نے ان کالجز میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ براہ مہربانی خادم اعلیٰ صاحب آپ اپنی علم دوست پالیسیوں میں ایلیمنٹری کالجز کے بھی ذہین طلبہ کو شامل کریں۔(عتیق الرحمن - سٹوڈنٹ گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج ساہیوال 0322-7065864)