دہشت گردی اور ہمارے رویے

 مکرمی!کوئٹہ اےک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بنا اورہزارہ برادری کے اسی سے زےادہ افراد لقمہ اجل بنے۔ ملک کے وہ سےاسی رہنماءجو کراچی کی بدامنی پر واوےلا مچارہے تھے کوئٹہ کے اس سنگےن واقعے پر صر ف مذمت پر اکتفا کئے ہوئے ہےں اور وہ کوئٹہ مےں کسی قسم کے آپرےشن کے مطالبے سے گرےزاں نظر آتے ہےں جبکہ ہزارہ برادری کے قتل عام پر اقوام متحدہ نے بھی اپنی تشوےش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہر ممکن تعاون کا ےقےن دلاےا ہے اس عالمی ردعمل سے ان واقعات کی سنگےنی کا اندازا ہمےں ہونا چاہےے ۔اسلام کا تصور معاشرت انسانی تحفظ اور بقا کا سب سے بڑا علمبردار ہے لےکن آج ہم فروعی اختلاف کی بنےاد پر اےک دوسرے کی گردنےں ماررہے ہےں اور اس کے بڑے مجرم وہ ہےں جو خاموشی اختےار کئے ہوئے ہےںآج وقت کا تقاضہ ہے کے ہم اس بربرےت کی بھرپور مذمت کرےں بلکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباﺅ بڑھائےں کہ اس قسم کے اقدامات اٹھائےں کہ مذموم جرائم کی روک تھام ہوسکے مرتکب افراد قانون کی گرفت آئےں اور متاثرےن بھی ان اقدامات سے مطمئن ہوں اگر اےسا نہ کےا گےا تو اس زےادتی کے خلاف اٹھنے والی وہ آوازےں جو عالمی سطح پر بلند ہورہی ہےں ان بےن الااقومی اداروں کو پاکستان مےں مداخلت کا موقع فراہم کرسکتی ہےں کےونکہ بعض حلقوں کی خاموشی درپردہ دہشت گردی کی حماےت سے تعبےر کی جارہی ہے۔(خان نوےد قمر)