بیٹے شہید ،سرپرست بک رہے ہیں؟

مکرمی!1965ءمیں بھارت نے جب پاکستان پر رات کے اندھیرے میں جارحیت کی تو اس وقت پاک فوج اور پوری قوم نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور ایک ملی نغمہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوتا تھا کہ....
”اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
تو لب دی پھریں اُدھار کڑے“
اس نعرے سے پاک فوج کے افسران اور جوانوں میں ولولہ انگیز جوش و جذبہ اور خون میں جوش و خروش بڑھتا تھا لیکن آج ہمارے پاک فوج کے سپوت جام شہادت نوش کر رہے ہیں لیکن ملک و قوم کے سرپرست حکمران بھارت کے سامنے جھکتے بکتے نظر آرہے ہیں۔ بھارتی فوج نے غلطی سے کنٹرول لائن عبور کرنے والے پاکستانی فوجی جوان کو شناخت اور اس کی جانب سے پوری وضاحت کے باوجود شہید کر دیا، جس پر پاک فوج اور قوم کی جانب سے بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ اس سے قبل بھی کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیز فائرنگ اور گولہ باری سے 4 جوان شہید ہوگئے ہیں جبکہ بٹل سکیٹر میں بھی بلااشتعال بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا حوالدار شہید ہوگیا۔
دوسری جانب بھارتی حکومت اور اس کی فوج کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کی فرضی تشویش عالمی ممالک کی جانب سے خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن ہمارے حکمران، سول بیوروکریسی اور سیکرٹری تجارت بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دینے اس کے ساتھ تجارت کے فروغ کیلئے بے تاب ہیں، اس سے بڑھ کر بے شرمی اور بے حمیتی کا رویہ اور کیا ہوسکتا ہے۔میں پاکستانی قوم کی جانب سے اس واضح کرتا ہوں کہ اگر موجودہ حکومت جو چند دن کی مہمان ہے ،اس نے بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دینے کا اقدام سرانجام دیا تو پاکستان کی سرزمین ان کیلئے تنگ ہو جائے گی۔(چودھری فرحان شوکت ہنجرا0321-4291302لاہور)