ناامیدی نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے

ناامیدی نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے

مکرمی! اگر کوئی شخص کسی چیز کی خواہش کرے اور کسی وجہ سے وہ خواہش‘ تمنا پوری نہ ہو سکے تو اسکے نتیجے میں انسان مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مایوسی معاشرے میں تیزی کے ساتھ پھیلتی جارہی ہے یہ کیفیت انسان کو توڑ کر رکھ دیتی ہے مایوسی کے شکار افراد زندگی کے تمام معاملات میں ناامید دکھائی دیتے ہیں ہر سماجی طبقے کے اپنے حالات اور مسائل ہوتے ہیں نفسیاتی مسائل کا شکار ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ آج ہم ٹی وی چینلز یا اخبارات پر نظر ڈالیں تو خود سوزی کرنے کے واقعات بڑی تعداد میں ملتے ہیں ایسی خبریں اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں جہاں مایوسی عام ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مایوسی انہیں ان غلط ادام کی جانب گامزن کرتی ہے۔ بیروزگاری‘ فقر و فاقہ کی وجہ سے خود سوزی جیسے مسائل کا حل نہیں نکل سکتا مایوسی کو طاری کرنے سے یہ مستقل طاری ہوتی چلی جاتی ہے جبکہ یہ پریشانیوں کا حل نہیں۔ اپنی خواہشات مختصر رکھیں اور اللہ پر بھروسہ کرکے محنت کو شعار بنائیں تو زندگی آسان ہو جائے گی۔ خواہشات کو بڑھا کر زندگی کو اپنے لئے بوجھ نہیں بنانا چاہتے۔ (سامعہ اعظم چونا منڈی گرلز کالج لاہور)