بڑا مقام ہے اس شخص کی بصیرت کا .... (جاوید احمدعابد شفیعی)

ہمارے حال پہ وہ آہ بے قرار گیا

جہاں سے شاعر مشرق بھی سوگوار گیا
عظیم امت مسلم کا غم خوار گیا
وہ سرفروش تھا، ملت کا درد رکھتا تھا
مہک رہا ہے وہ سب کے دلوں کے آنگن میں
مہک لُٹاتا ہوا موسم بہار گیا
سبق وہ دیتا رہا عمر بھر امامت کا
بڑا مقام ہے اس شخص کی بصیرت کا
میرے حضور کی امت کا غمگسار گیا
نہ اس کے بعد ہی آیا ہے فلسفی ایسا
نہ اس سے قبل آیا تھا کوئی اس جیسا
وہ اہل ذوق کی محفل کا تاجدار گیا
ہزار سال گزر جائیں گے مگر ایسا
جنم نہ لے گا زمانے میں پھر گوہر ایسا
فلک کو چھو کے ستاروں سے بھی جو پار گیا
سپرد کر کے وہ جذبے عظیم ملت کے
کتنا حسیں تھا شاعرِ مشرق کا انتخاب
قائدؒ کا اس جہان میں کوئی نہیں جواب
دنیا میں کتنے رہنما آئے مگر کوئی
پیکر نہ میرے قائداعظم سا ایک بھی
چمکا نہ آسمانِ سیاست پہ آفتاب
آیا ہے جو بھی آج تلک اقتدار میں
تم سا نہ جانثار ملا عزت مآب
حسرت یہ ملک و قوم کے دل میں سدا رہی
آتا تمہارے بعد مسیحا اگر کوئی
کرتا جو آکے چور لٹیروں کا احتساب