اقبال ؒ .... (رشید آفرین)

تیرا فکر تیز ہے کون و مکان کا راز دار

تو نے ہر ایک راز فطرت کر دیا ہے آشکار
تو نے بخشا ہے جنوں کو اک نرالا پیراہن
تو نے کر ڈالا ہے دامان خرد کو تار تار
توڑ ڈالے تو نے سنگ فکر سے کہنہ سبو
اور بخشا پھر خودی کا ہم کو جام زرنگار
تھام لی آتے ہی تو نے یوں زمام انقلاب
جیسے ملت کو تھا اک مدت سے تیرا انتظار
تو نے اپنے ہاتھ سے سینچا گلستاں قوم کا
تو نہ لیکن دیکھ پایا اس کی نوراستہ بہار
کاش تو بھی دیکھ پاتا حال کشت مراد
کاش دکھاتی تجھے تقدیر یہ سب برگ و بار
دیکھ جس کے واسطے کرتا تھا تو آہ و فغاں
قوم تیرے واسطے ہے سوگ وار و اشک بار