نادر شاہ، رنگیلا اور بہادر شاہ

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
 نادر شاہ، رنگیلا اور بہادر شاہ

مکرمی! محترمہ روبینہ فیصل نے ’’دستک‘‘ میں لکھا ہے: ’’نادر شاہ سے رحم کی بھیک مانگ کر محمد شاہ نے یہ قتل عام (دہلی) بند کرایا۔‘‘ (نوائے وقت 6مارچ 2015ئ)حقیقت یہ ہے کہ نادر شاہ افشار (شاہِ ایران) کے حکم سے ہونے والا دہلی کا قتلِ عام (1739ئ) محمد شاہ رنگیلے نے رحم کی بھیک مانگ کر بند نہیں کرایا تھا بلکہ یہ کام دربارِ مغلیہ کے وزیراعظم نظام الملک آصف جاہ نے انجام دیا تھا۔ آصف جاہ ننگے سر، دستار گلے میں ڈالے نادر شاہ کے سامنے جا کر درخواست گزار ہوا اور یہ شعر پڑھا تھا ؎
کسے نہ ماند کہ دیگر بہ تیغِ ناز کُشی مگر کہ زندہ کُنی خلق و باز کُشی
(اب کوئی باقی نہیں رہا جسے آپ تیغِ ناز سے قتل کریں، سوائے اسکے کہ خلقت کو زندہ کریں اور دوبارہ قتل کریں)محترمہ نے بہادر شاہ ظفر (آخری مغل تاجدار) کی گرفتاری کے بعد انہیں پنجرے میں بند کرکے چوک میں رکھے جانے کا افسانہ جانے کہاں سے لے لیا۔۔(محسن فارانی۔ دارالسلام، لاہور)