تباہی بربادی یا پھر خوشحالی

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی ! بجلی کی کمی کا حل تیل سے تھرمل بجلی پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب میں تو ممکن ہے کیونکہ خدا نے اُسے ایک معجزاتی ملک کے طور پر منتخب کیا ہوا ہے مگر دنیا کا کوئی اور ملک پن بجلی کے بغیر نہیں پنپ سکتا جس کی مثال آپ کے سامنے تمام دنیا کی شکل میں موجود ہے جہاں ہائیڈل اور تھرمل مکس کو ضرورت اور بچت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ہم سب جانتے بوجھتے اتنے ڈرپوک واقع ہوئے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کا نام لینا تو درکنار اسکے بارے میں حکومتی اور مخالف پارٹیاں کچھ سُننا بھی پسند نہیں کرتیں۔ کیا کوئی ماں کا لعل ہمیں اس تباہی سے بچانے کا اہل ہے؟ کالا باغ ڈیم کے فوائد کسی سے پوشیدہ نہیں، ڈیم سے مفت بجلی حاصل ہونے کے علاوہ ہم اپنے ملک سے قحط، بیروزگاری کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ نیز آبپاشی کیلئے پانی اور سیلابوں سے ہر سال تباہ ہونے والی جانیں اور مال بچا سکتے ہیں۔ اس طرح فوری طور پر پانچ لاکھ انسانوں کو روزگار بھی مہیا کیا سکتا ہے جو پاکستان کیلئے خوشحالی کی نوید ہو گی جس پر ہماری نسلیں فخر کر سکیں گی۔ انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز پاکستان کا ہر رکن ہر قسم کی قربانی کیلئے ہمہ وقت تیار ملے گا۔ صرف حکومت کی آشیرباد کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز پاکستان کی طرف سے پیش کردہ مندرجہ ذیل سات تجاویز پیش خدمت ہیں جن پر عملدرآمد کر کے یہ حکومت ملک اور ملت کا نام روشن کر سکتی ہے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو ورنہ سب یہی کہیں گے کہ یہ حکومت بھی ملک کی تباہی کی اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح کوئی بیوقوف ڈرائیور ڈیزل گاڑی کو پٹرول پر چلا کر تباہ کر دے۔
 (کیپٹن (ر) سید خالد سجاد چیف انجینئر (ر) واپڈا (پاور)، چیئرمین آئی ای پی)