پتنگ بازی قائد کی روح تڑپ اٹھی ہو گی

مکرمی! قائداعظم محمد علی جناحؒ اور حضرت علامہ اقبالؒ اور کروڑوں مسلمانوں نے ہندوانہ رسموں اور ہندو کلچر سے آزادی کے لئے علیحدہ ملک حاصل کیا جس طرح کیا اس سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔ ہر سال ہمارے بچے اور بڑے پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی قاتل ڈور سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ کیا برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے انہی عوامل کے لئے پاکستان بنایا تھا کہ ہندو کلچر اور ان کی ایجاد کردہ موت کی کھیلیں ہم اس پاک سرزمین پر بھی کھیلیں گے اور چند بسنتے اور بسنتیاں موت کا کھیل ہر سال منا کر نہ جانے کتنے گھروں کو سوگوار کریں گے ۔کوئی کہتا ہے کہ فلاں ڈور ہونی چاہیے تو کوئی کسی ڈور کی تجویز دیتا ہے۔ حکمرانوں پر حیرانگی ہے کہ پتنگ بازی کو اتنا سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے کہ فلاں ایسوسی ایشن ناراض نہ ہو جائے فلاں کا روزگار اس سے منسلک ہے بھائی کل کو ہیروئن بیچنے والے کہیں گے کہ ہمارا روزگار اس سے منسلک ہے۔ جیب کترا اور ڈاکو اغواءکار بھی اسے اپنا حق سمجھے گا۔ حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو سامنے کیوں نہیں آتی اور ان بسنتوں اور بسنتیوں کو وہاں اٹھا کر کیوں نہیں پھینکتی جہاں انہیں ہونا چاہیے۔
(محمد احمد اعوان چونگی امرسدھو لاہور)