لمحوں کا سفر

اسلم لودھی.............
کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے، اس قول زریں کی روشنی میں دیکھا جائے تو انتساب ہی میں مصنف کا تعارف پورا نہیں تو آدھا ضرور ہو جاتا ہے کہ ان کو مجید نظامی، مجیب الرحمن شامی، حفیظ الرحمن احسن، اشرف قدسی اور افتخار مجاز جیسے مختلف انواع اداروں سے تعلق رکھنے والے مقتدر لوگوں سے ربط رہا۔ یہ سچ ہے مصاحبت اثر ڈالتی ہے سعدی نے بھی تو ایک مکاتب میں مٹی کے حوالے سے بتایا تھا کہ وہ اس لئے مہک رہی تھی کہ چند دن پھولوں کی صحبت میں رہی تھی
جمالِ ہم نشیں درمن اثر کرد وگرنہ من ہمی خاکم کہ ہستم
محمد اسلم لودھی کی کاوشوں کا مجموعہ ایک گلدستہ ہے جس میں سارے پھول پاکستان کی مٹی کے ہیں۔ ان کے اسلوب میں اپنائیت ہے، خاص طور پر ماں کے رشتے سے ان کے جذبات کا تقدس ان کے باطن کی خوبصورتی کا پتہ دیتا ہے جس شخص کو رشتوں کی پہچان ہے وہی اپنی اعلیٰ اقدار اور روایات کا پاسبان ہو سکتا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے مضامین کوئی نہ کوئی مقصد اجاگر کرتے ہیں۔ وہ لفظ جو معاشرہ بدلنے کے لئے یعنی اصلاح بنی نوع انسان کے لئے نہ ہوں وہ مصنف کو بددعائیں دیتے ہیں۔ 359 صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 300 روپے ہے ملنے کا پتہ سدرہ ایمپوریم پبلشرز (النور ایجوکیشنل سنٹر 28 کبیر سٹریٹ اردو بازار لاہور فون نمبر 0423-7244358)