حصولِ چینی میں شناختی کارڈ لازمی اچھی پالیسی ہے

مکرمی! چینی کے حصول میں شناختی کارڈ کا ہونا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ حکومت کا بہت اچھا اور سب سے بڑا عوامی خواہشات اور امنگوں کے عین مطابق ہے یعنی چینی خریدنے کے لئے پاکستانی بالغ ہونا ضروری ہے۔ پچھلے دورِ حکومت میں کچھ اسمبلی ممبران کے اثاثوں، بینک بیلنس اور جائیداد کو جو میڈیا نے شائع کئے معزز اراکین اسمبلی جن میں وزراءبھی شامل تھے اکثریت کے پاس نہ تو بینک بیلنس نہ کار نہ گھر تھا حیرانگی کا مقام ہے ایسا شخص جس کا پاکستان میں گھر تک نہیں ہے اس کا شناختی کارڈ کیسے بنا چلو اگر کرائے کے گھر میں رہتے ہوئے شناختی کارڈ بن بھی گیا تو الیکشن میں آنے والے خرچے جو عام پاکستانی جانتے ہیں کہاں سے آئے ایسا شخص جس کا اپنا گھر تک پاکستان میں نہ ہو اسے حکومتی اعلیٰ مرتبوں پر بیٹھا دینا مناسب ہے؟ اور پھر ایجنسیاں بھی ایسی فعال ہوں کسی نے پتہ نہ کیا کہ اس خانہ بدوش بھوکے ننگے شخص کو وہ لاکھوں کروڑوں روپے کہاں سے آئے کس نے دیئے جو الیکشن کے دنوں میں بڑے بڑے بورڈ جھنڈے اشتہارات اور جا بجا عارضی ڈیرے جہاں رات دن چائے ٹھنڈا اور کھانوں سے ہر آنے جانے والے کی خاطر مدارت ہوتی تھی ۔وہاں اسی ملک میں جس کو قائد اور اقبال کے علاوہ بیشمار مسلمانوں نے رات دن ایک کر کے اسلامی فلاحی مملکت کا تحفہ برصغیر کے مسلمانوں کو دیا آج حکمران مصنوعی بحران پیدا کر کے آئے دن عوام کے سینوں میں آگ لگا رہے ہیں۔ خدا کے بندو لوگ معاش کی غرض سے گھروں سے باہر ہوتے ہیں حالات ایسے پیدا کر دیئے گئے ہیں کہ جب تک گھر کے تمام افراد مزدوری نہیں کریں گے گزارا نہیں ہو گا تو اگر ہمارے بچے چینی لے آیا کرتے تھے تو وہ بھی آپ کو ناگوار گزرا افسوس صد افسوس۔
(مقصوداں اقبال ننکانہ صاحب)