اے ایس ایف

مکرمی! 12 فروری کے اخبار میں آپ کے ایک کالم نگار نے حکومتی توجہ ایک ایسے ادارے کی طرف دلانے کی کوشش کی ہے جس کا نام ہم نے پہلی مرتبہ سنا ہے۔ بین الاقوامی میچوں میں ٹیموں کو ہوٹلز، سٹیڈیمز کے ساتھ ساتھ ہوٹل تا سٹیڈیمزاسکارٹ کر کے لانا۔قومی اسمبلی کی سیکورٹی کے ساتھ ساتھ دوسرے کارنامے نظر سے گزرے واقعی یہ ادارہ تو بڑے بڑے کاموں میں فعال ثابت ہو سکتا ہے ایسے ادارے کو سہولیات اور تنخواہوں یا رسک الاونس جیسے معاملات میں حکومتی نظراندازی یقیناً حیران کن ہے ایسے فعال ادارے کو تو حکومت پاکستان کو سر آنکھوں پر بٹھانا چاہیے تھا تاکہ بوقت ضرورت اعلیٰ تربیت یافتہ اس ادارے کو ملکی تحفظ کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ مجھے امید ہے کہ اس کالم پر حکومت نے سنجیدگی سے اے ایس ایف کے بارے میں سوچ بچار کا عمل شروع کر دیا ہو گا۔
(محمد ابوبکر 105 بنگے تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد)