آلودگی اور غنودگی

مکرمی! رات کو دیر سے سونا اور صبح دیر سے جاگنا ایک معمول نظر آتا ہے نہ ہم صبح کے سورج کو طلوع ہوتے دیکھتے ہیں اور نہ غروب آفتاب کا منظر۔ ہم تو یہ بھی دیکھنے سے قاصر ہیں کہ راتوں کو اٹھتے ہوئے کارخانوں کے خوفناک دھوئیں نے ہمارے شہروں کے اوپر آلودگی کے بادل پھیلے ہوتے ہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ یہ پاک سرزمین جس مقصد کے لئے حاصل کی گئی تھی وہ تھا ایسا پاکیزہ ماحول جس میں حاکمیت اعلیٰ صرف اور صرف اللہ رب العزت ذات اقدس کو حاصل ہو‘ جس میں انصاف‘ اخوت‘ بھائی چارہ‘ دین اسلام کے زریں اصولوں کی پاسداری کرنا شامل تھا۔لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے نفسا نفسی اور بے حسی کی اس جنگ میں ہم نقطہ انجماد تک پہنچ جکے ہیں۔ ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر برف پڑھ چکی ہے۔ ملک کے اندر اور باہر کے خلفشار کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی جو پہلے ہی اجیرن تھی مزید تاریکی میں ڈوب گئی ہے ۔ ہم میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے اور اپنی آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں ہم کو غنودگی سے جاگنا ہو گا او حق کا ساتھ دینا ہو گا تاکہ سچ کا بول بالا ہو۔
(بدر منیر ویٹرنری یونیورسٹی) 0301-4539535