مچھروں کا عذاب

مکرمی ! مہنگائی و بے روزگاری کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ ذہنی مریض اور چڑچڑا پن کا شکار ہو گیا ہے۔ کارخانے، فیکٹریاں اور کاروباری مراکز بند ہونے سے غریب فاقوں پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس دردناک عذاب میں نیند تو پہلے ہی نہیں آتی تھی لیکن اب بجلی نہ ہونے کی وجہ سے رات بھر غریب اور متوسط طبقے مچھروں کے نرغے میں ہیں۔ گرمی اورمچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے بچوں بوڑھوں سمیت کوئی بھی پل بھر کیلئے آرام کی نیند نہیں سو پاتا، اس سے لوگوں کی صحت خراب اور چڑچڑاہٹ مزید بڑھ گئی ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ حکومت کم از کم ہفتے میں ایک دفعہ تو ملک بھر میں لوگوں کے گھروں، گندے نالوں ، تالابوں اور جوہڑوں وغیرہ میں سپرے کا اہتمام کرتی، لیکن ایسا نہیں ہورہاجو المیہ سے کم نہیں۔ میری مرکزی و صوبائی حکومتوں سے اپیل ہے کہ مچھروں کی تیزی سے پیدائش کے موسم میں تو کم از کم گھروں، گندے نالوں ، جوہڑوں وغیرہ میں سپرے اور مچھر مار ادویات کے چھڑکاﺅ کیلئے ہفتہ یا پندرہ روزہ شیڈول بنایا جائے۔(شیخ امتیاز احمد، لاہور ۔)