خدا نہ دے وہ بے ضمیر کہ ....

مکرمی! ساری قوم جانتی ہے آئندہ بھی ممبران اسمبلیاں جو آئینگے انکی اپنی اور بیوروکریسی کے سامنے کیا حیثیت ہوگی قوم کو یہ بتائیں کہ بینکوں سے کروڑوں، اربوں روپیہ ڈھونگ رچا کر کیسے معاف کرایا جاتا ہے۔ قوم کہ یہ بتائیں کہ اچھی بھلی فائدہ مند ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اور دیگر کارخانوں کی بجلی، گیس بند کرکے کس طرح تباہ کیا جاتا ہے۔ قوم کو یہ بتائیں کہ بجلی کے میٹروں کو واپڈا نے تیز رفتار کیوں کررکھا ہے اور اسکے اوپر کئی سرچارچ کیسے لگائے جاتے ہیں۔ قوم کو یہ بتائیں کہ بیوروکریسی کو ریٹائرمنٹ کے وقت بطور انعامات کتنے مربعے اور کروڑوں روپیہ دیا جاتا رہا ہے۔ انکے بچوں نے ملکی اور غیرملکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کیسے تعلیم حاصل کی۔ کیا بیرونی سکالرشپ کے حقدار انہیں کے بچے تھے؟ آج سے 55 سال قبل ثاقب زیروی نے ٹھیک کہا تھا
خدا نہ دے وہ بے ضمیر کہ جس سے قوم ہو حقیر
فقط امیر بن امیر سرور و رقص کے اسیر
وہ بے حساب عصمتیں تھیں جو دن دہاڑے لٹ گئیں تمہیں جو یاد تک نہیں۔ انہیں کا خون ہے پیو! پیو پلاﺅ اور جیو۔(اختر مرزا گلبرگ 5، لاہور )