جو بجلی مل رہی ، غنیمت ہے!


 مکرمی! نگران وزیراعظم نے بجلی کے تسلسل میں 20-22 گھنٹے تعطل کا نوٹس لیتے ہوئے 20 ارب جاری کرنے کا حکم فرمایا تو کملائی ہوئی مظلوم عوام کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے کہ اب حقیقی معنوں میں بلاتفریق بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ٹھکرائے مرجھائے عوام اب چند دنوں میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے خواب دیکھنے لگے لیکن بقول شاعر
ان سے مل کر بھی نہ کافور ہوا     درد یہ سب سے جدا لگتا ہے
نگران وزیراعظم بھی عوام کے دکھ کا مداوا نہ کر سکے لہٰذا اب وزیراعظم روز نوٹس لیں، اربوں کا اعلان کریں تاکہ عوام ان طفل تسلیوں سے ہی اپنی اندھیری راتیں گذار سکیں۔ ویسے مخالفین بھی مخالفت کا کوئی لمحہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے الزام لگاتے ہیں کہ پنجاب کے حصے کا 450 میگاواٹ سندھ کو دیا جا رہا ہے جس سے ملک کے سب سے بڑے صوبے سے ناانصافی کی جا رہی ہے یہ صرف ایک الزام ہی ہے اس کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ مخالفین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے تیل کی مد میں پیسے نہیں دئیے اور اپنے سامان تعیش میں سرگرداں حکمران اقتدار کو دوام بخشنے میں سرگرداں رہے۔ مخالفین کو تو مخالفت سے فرصت نہیں وگرنہ جتنی بجلی ہمیں مل رہی ہے یہ بھی جناب صدر آصف علی زرداری کی دین ہے ہم تو اس کے بھی قابل نہیں۔(ڈاکٹر ندیم اختر ندیم)