بھیانک جرائم اور اندھا قانون

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی ! بڑے بڑے دانشور اور اعلیٰ ظرف لوگوں سے یہ باتیں سُنتے آئے ہیں کہ اگر کسی ملک میں کوئی ایسا جرم ہو جو سنگینی اختیار کر جائے تو اس کے مرتکب کو سرعام عبرتناک سزا دینی چاہئے تاکہ آنے والے وقت میں کوئی دوسرا جرم کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچے۔ پاکستان ایسا بدنصیب ملک ہے جسے ہر وقت کسی نہ کسی ایسی سنگینی سے گزرنا پڑتا ہے جس کے بارے شاید کوئی کبھی سوچتا بھی نہ ہو لیکن جرم ہو جاتا ہے، ایکشن لے لئے جاتے ہیں، پولیس مصروف تفتیش ہو جاتی ہے لیکن نتیجہ ہمیشہ صفر۔ ہماری پولیس خبر سے ایسی بیباک ہے کہ سزا دینا تو دور کی بات مجرم ہی ہاتھ نہیں آتے۔ کوئی دن ایسا شاید گزرتا ہو گا کہ مقامی اخبارات میں کوئی ایسی خبر نہ آئی ہو کہ پاکستان کے فلاح صوبے، فلاں شہر، فلاں گلی اور محلے میں واردات ہو گئی اور مجرم فرار۔ مغل پورہ کی رہائشی 5 سالہ بچی کے ساتھ کیا درندگی ہوئی اور مجرم ابھی تک پکڑے نہیں گئے۔ وزیر اعلیٰ صاحب اور چیف جسٹس صاحب کے ازخوذ نوٹس بھی کچھ نہیں کر پائے۔ جب تک قانون نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں تب تک کچھ بھی نہ ہو سکے گا اور قانون کو ایک نہ ایک دن اپنی آنکھیں کھولنی ہی پڑیں گی ورنہ ملک عزیز کا خدا ہی حافظ۔ (رانا ذوالفقار علی ، لاہور)