گوجرانوالہ خادم پنجاب کی توجہ کا منتظر

مکرمی! شہروں میں گوجرانوالہ ہی وہ بدقسمت شہر ہے جو پسماندگی میں اپنی مثال آپ ہے 25 لاکھ کی افراد کا مسکن گوجرانوالہ آج اکیسویں صدی میں بھی اعلی تعلیم کی سہولتوں سے یکسر محروم ہے یہاں دیرینہ مطالبات کے باوجود میڈیکل کالج کیڈٹ کالج اور ایک مکمل یونیورسٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے اور یہاں اسی تعلیمی سال سے کم ازکم بیس نئے تدریسی کادرجہ دیا جائے اور یہاں اسی تعلیمی سال سے کم ازکم بیس نئے تدریسی شعبہ جات کا اضافہ کیا جائے گوجرانوالہ میڈیکل کالج کے منصوبے کو عملی شکل دے کر امسال داخلے کئے جائیں اور کم ازکم پانچ سو بستروں پر مشتمل ایک تدریسی ہسپتال تعمیر کیاجائے کیڈٹ کالج کا قیام بلاتاخیر عمل میں لایا جائے گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف لیدر ٹیکنالوجی کا درجہ بڑھا کر اسے گورنمنٹ کالج آف لیدر ٹیکنالوجی گوجرانوالہ بنایا جائے یہاں بی ایس سی لیدر ٹیکنالوجی کی کلاسز متعارف کروائی جائیں اور اس کا الحاق یو۔ ای۔ ٹی لاہور سے کیا جائے گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن برائے خواتین گوجرانوالہ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ (محمد مظفر علی چیئرمین سٹیزنز فرنٹ گوجرانوالہ)